-Advertisement-

وائرس زدہ کروز شپ کے مسافروں کی تلاش کے لیے دنیا بھر میں ہنگامی اقدامات

تازہ ترین

بھارتی ریاستی انتخابات: نتائج نے ہندو مسلم سیاسی خلیج کو مزید گہرا کر دیا

نئی دہلی میں ہونے والے چار ریاستوں کے حالیہ انتخابات کے نتائج نے بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی تقسیم...
-Advertisement-

ایم وی ہونڈیئس نامی کروز جہاز پر ہینٹا وائرس کے پھیلنے کے بعد دنیا بھر کے ممالک ان مسافروں کی تلاش میں مصروف ہیں جو جہاز کے کیپ ورڈی کے ساحل پر پہنچنے سے قبل ہی اتر چکے تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وبا کے نتیجے میں ایک ڈچ جوڑے اور ایک جرمن شہری سمیت تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ آٹھ افراد میں وائرس کی تصدیق یا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ڈچ حکومت نے تصدیق کی ہے کہ جہاز کے کیپ ورڈی پہنچنے سے قبل سانتا ہیلینا کے مقام پر تقریباً 40 مسافر جہاز سے اترے تھے، جن میں سے بیشتر کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ہلاک ہونے والے ڈچ شہری کی اہلیہ بھی انہی مسافروں میں شامل تھیں، جو خود بھی بیماری کا شکار ہوئیں اور نیدرلینڈز پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گئیں۔ کے ایل ایم ایئرلائن نے بتایا کہ خاتون کی حالت بگڑنے پر انہیں 25 اپریل کو جوہانسبرگ میں طیارے سے اتارا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد میں انڈین اسٹرین کی تصدیق ہوئی ہے جو انسانوں کے درمیان قریبی رابطے سے پھیل سکتا ہے۔ اگرچہ ماہرین کے مطابق اس کا پھیلاؤ انتہائی نایاب ہے، تاہم عالمی ادارہ صحت اور دیگر متعلقہ ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور امریکی عوام کے لیے خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئیل باروٹ نے بتایا ہے کہ ایک فرانسیسی شہری بیمار شخص کے رابطے میں رہا ہے تاہم اس میں فی الحال علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ ادھر ارجنٹائن کی وزارت صحت نے جہاز کے ابتدائی مقام اشوایا میں چوہوں کو پکڑنے اور ان کے تجزیے کا فیصلہ کیا ہے۔

تقریباً 150 افراد پر مشتمل ایم وی ہونڈیئس کے ہفتے کے روز اسپین کے جزائر کینری کے علاقے ٹینیرائف پہنچنے کی توقع ہے۔ اسپین پہنچنے پر غیر ملکی مسافروں کو ان کے ممالک روانہ کر دیا جائے گا، جبکہ 14 ہسپانوی شہریوں کو میڈرڈ کے ایک فوجی ہسپتال میں قرنطینہ کیا جائے گا۔ بدھ کے روز جہاز سے تین مریضوں کو ہنگامی بنیادوں پر نکالا گیا تھا جن میں سے ایک نیدرلینڈز اور ایک جرمنی کے ہسپتال میں زیر علاج ہے، جبکہ تیسرے مریض کو لائف سپورٹ سسٹم میں خرابی کے باعث نیدرلینڈز منتقلی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -