-Advertisement-

مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں: پاکستان

تازہ ترین

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلے ہفتے اسلام آباد میں امکان

واشنگٹن اور تہران کے مابین کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا نیا دور آئندہ ہفتے اسلام آباد میں...
-Advertisement-

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کسی صورت قابل قبول نہیں اور قابض آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملے تشویشناک ہیں۔

پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا پابند بنائے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ٹیکس محصولات کی روک تھام فلسطینی معیشت کو کمزور کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کا واحد پائیدار حل ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

عاصم افتخار نے نشاندہی کی کہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور الحاق کے اقدامات ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے بااثر ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو ان غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے جوابدہ ٹھہرائیں۔

پاکستانی مندوب نے اسرائیل کی جانب سے قانونی اور انتظامی اقدامات کے ذریعے ڈی فیکٹو الحاق کو ڈی جیوور کنٹرول میں بدلنے کی کوششوں کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ زمینوں پر قبضے، گھروں کی مسماری اور فلسطینیوں کی بے دخلی کا سلسلہ جاری ہے جو چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔

عاصم افتخار نے انکشاف کیا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران اسرائیل نے 102 نئی بستیوں کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے مشرقی یروشلم کے قریب ای ون توسیعی منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ جغرافیائی طور پر ایک مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنا دے گا۔

پاکستان نے مقبوضہ علاقوں میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سال 2025 میں فلسطینیوں کے خلاف قابض آبادکاروں کے حملوں کی تعداد 2006 کے بعد سے اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

عاصم افتخار نے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے لیے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -