-Advertisement-

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلے ہفتے اسلام آباد میں امکان

تازہ ترین

مشرقی بحر الکاہل میں امریکی کارروائی: منشیات سمگلنگ میں ملوث کشتی پر حملہ، 2 ہلاک، ایک زندہ بچ گیا

مشرقی بحر الکاہل میں امریکی فوج کی جانب سے منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبے میں ایک کشتی...
-Advertisement-

واشنگٹن اور تہران کے مابین کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا نیا دور آئندہ ہفتے اسلام آباد میں متوقع ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے حکام ایک 14 نکاتی مسودے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد خطے میں جاری جنگی صورتحال کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔

اس مجوزہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے خاتمے اور ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کسی دوسرے ملک منتقل کرنے جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ مذاکرات ایک ماہ پر محیط ہوں گے تاہم باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تہران پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی کا معاملہ ہے۔ امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ایران کے ساتھ جاری صورتحال مکمل جنگ نہیں بلکہ ایک غیر یقینی کیفیت ہے، جس کے دوران امریکا کسی بھی لمحے کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی عسکری ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری جہازوں کے لیے مشکلات پیدا کیں تو خطے میں دوبارہ تصادم کا آغاز ہو سکتا ہے۔ تہران کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی پرچم بردار دو خالی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

یاد رہے کہ 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہو گیا تھا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کی مدت میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کر دی ہے۔ 13 اپریل سے امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری ٹریفک کو روکنے کے لیے بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے جس سے خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -