-Advertisement-

مشرقی بحر الکاہل میں امریکی کارروائی: منشیات سمگلنگ میں ملوث کشتی پر حملہ، 2 ہلاک، ایک زندہ بچ گیا

تازہ ترین

یوکرین اور روس کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کا اعلان، ٹرمپ کی توسیع کی خواہش

روس اور یوکرین نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ امریکا کی ثالثی میں نو مئی سے گیارہ...
-Advertisement-

مشرقی بحر الکاہل میں امریکی فوج کی جانب سے منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبے میں ایک کشتی پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک جبکہ ایک شخص زندہ بچ گیا ہے۔ یہ کارروائی جمعہ کے روز عمل میں لائی گئی۔

امریکی سدرن کمانڈ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیو میں ایک سیاہ رنگ کی کشتی نما شے دکھائی گئی ہے جس کے بعد ایک زوردار دھماکہ ہوا اور سمندر سے آگ کا شعلہ بلند ہوتا دیکھا گیا۔

سدرن کمانڈ کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوری طور پر امریکی کوسٹ گارڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ زندہ بچ جانے والے شخص کی تلاش اور ریسکیو آپریشن شروع کریں۔ تاہم حکام کی جانب سے ریسکیو آپریشن کی تفصیلات یا متاثرہ شخص کی حالت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے انسداد دہشت گردی کی ایک نئی حکمت عملی کی منظوری دی ہے جس کے تحت مغربی نصف کرہ میں منشیات کے کارٹیلز کا خاتمہ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔

صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے لاطینی امریکہ کے سمندری حدود بشمول مشرقی بحر الکاہل اور بحیرہ کیریبین میں مشتبہ منشیات بردار کشتیوں کو تباہ کرنے کی مہم ستمبر کے اوائل سے جاری ہے جس میں اب تک کم از کم 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی فوج نے تاحال اس بات کے شواہد پیش نہیں کیے کہ ان کشتیوں میں منشیات موجود تھیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران ان حملوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

صدر ٹرمپ علاقائی رہنماؤں پر بھی زور دے رہے ہیں کہ وہ منشیات کے کارٹیلز اور بین الاقوامی گینگز کے خلاف فوجی کارروائیوں میں امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون کریں۔ ان کا موقف ہے کہ یہ عناصر خطے کی قومی سلامتی کے لیے ناقابل قبول خطرہ ہیں۔

دوسری جانب ناقدین نے ان کشتیوں پر حملوں کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے ہیں۔

اس مہم کا پہلا حملہ دو ستمبر کو کیا گیا تھا۔ دسمبر کے اوائل میں ٹرمپ انتظامیہ کو اس وقت سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کی تصدیق ہوئی کہ دو ستمبر کے حملے میں امریکی فوج نے ڈبل ٹیپ یعنی ابتدائی حملے کے بعد دوسرا حملہ کیا تھا جس میں پہلی کارروائی سے زندہ بچ جانے والے دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد کچھ قانون سازوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا یہ دوسرا حملہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -