-Advertisement-

صدر ٹرمپ کا یو ایف او سے متعلق خفیہ سرکاری دستاویزات جاری کرنے کا حکم

تازہ ترین

روس کا آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی اور بحرینی قرارداد واپس لینے کا مطالبہ

ماسکو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ اور بحرین کی جانب سے پیش کردہ اس مسودہ قرارداد...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر محکمہ دفاع نے نامعلوم فضائی مظاہر یعنی یو ایف او (UFO) سے متعلق درجنوں خفیہ دستاویزات جاری کر دی ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امریکی عوام کے سامنے شفافیت لانا ہے۔ محکمہ دفاع کے مطابق، مستقبل میں مزید دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز کو بھی منظر عام پر لایا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق جمعہ کے روز جاری ہونے والی تقریباً 160 فائلوں میں پرانی ویڈیوز کے نئے حصے شامل ہیں، تاہم ان میں خلائی مخلوق یا کسی غیر ملکی ٹیکنالوجی کا حتمی ثبوت موجود نہیں ہے۔ ان دستاویزات میں 1947 کی فلائنگ ڈسکس کی رپورٹ کے علاوہ 1969 کے اپالو 12 مشن کے دوران چاند کی سطح سے لی گئی غیر واضح تصاویر اور 1972 کے اپالو 17 مشن کا ٹرانسکرپٹ بھی شامل ہے جس میں خلابازوں نے نامعلوم اشیاء دیکھے جانے کا تذکرہ کیا ہے۔

اپالو 17 کے پائلٹ رونالڈ ایونز نے اپنے مشن کے دوران انتہائی چمکدار ذرات یا ٹکڑے دیکھے جانے کی اطلاع دی تھی۔ اس حوالے سے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ پچھلی انتظامیہ نے اس موضوع پر شفافیت نہیں دکھائی، لیکن اب عوام خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر فلکیات ایوی لوب کا کہنا ہے کہ یہ فائلیں ظاہر کرتی ہیں کہ یو اے پی محض قیاس آرائی نہیں بلکہ حکومت نے ان کا ریکارڈ جمع کر رکھا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اپالو مشن کی تصاویر چاند کی سطح پر شہابیوں کے ٹکراؤ کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیاسی مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ سابق ریپبلکن رکن کانگریس مارجری ٹیلر گرین نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انہیں ان فائلوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور یہ محض توجہ ہٹانے کا پروپیگنڈا ہے۔ تجزیہ کار مک ویسٹ کا ماننا ہے کہ جاری کی گئی معلومات میں سے زیادہ تر سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں بھی سامنے آ چکی تھیں۔

یو اے پی کے تفتیش کاروں اور آزاد صحافیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان دستاویزات سے یو اے پی کے وجود کی تصدیق ہوتی ہے، مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ یہ خلائی مخلوق کا ثبوت ہیں۔ امریکی نمائندوں ٹم برچیٹ اور اینا پالینا لونا نے اس عمل کا خیرمقدم کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ مزید مواد آئندہ 30 دنوں میں جاری کیا جائے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -