-Advertisement-

ایرانی بحری جہازوں پر حملے کی صورت میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تازہ ترین

بھارت معرکہ حق میں شکست کبھی نہیں بھولے گا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی تاریخی شکست کو کبھی...
-Advertisement-

تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی تنصیبات پر شدید حملہ کیا جائے گا۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت کو بلاک کر رکھا ہے۔ جمعہ کے روز ایک امریکی لڑاکا طیارے نے ایران کے پرچم بردار دو ٹینکرز کو ناکارہ بنا دیا تھا جو مبینہ طور پر اس ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسلامی انقلابی گارڈ کور کی نیول کمانڈ نے واضح کیا ہے کہ ایرانی آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے ہر اقدام کا جواب امریکی مراکز پر بھرپور حملے کی صورت میں دیا جائے گا۔ پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے مطابق دشمن کے اہداف پر میزائل اور ڈرونز لاک کر دیے گئے ہیں اور صرف فائرنگ کے حتمی حکم کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اپنے جنگی جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن کو مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے۔ برطانوی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی ایک محتاط منصوبہ بندی کا حصہ ہے تاکہ حالات سازگار ہونے پر برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ قیادت میں ایک کثیر الملکی اتحاد کے تحت سمندری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

ایچ ایم ایس ڈریگن کو مارچ میں مشرقی بحیرہ روم میں تعینات کیا گیا تھا تاکہ قبرص کے دفاع میں مدد فراہم کی جا سکے۔ یہ پیش رفت فرانس کی جانب سے بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں اپنے کیریئر اسٹرائیک گروپ کی تعیناتی کے بعد سامنے آئی ہے۔ برطانیہ اور فرانس اس کوشش میں مصروف ہیں کہ ایک دفاعی لائحہ عمل کے ذریعے تجارتی راستوں پر اعتماد بحال کیا جا سکے۔

اگرچہ امریکہ اور ایران دس ہفتوں سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم برطانیہ اور فرانس آبنائے ہرمز سے محفوظ نقل و حمل کے لیے ایک تجاویز پر کام کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کے لیے ایران کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہے جبکہ ایک درجن سے زائد ممالک اس مشن میں شرکت کے لیے آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانوی رائل نیوی کے محدود وسائل اور نئے جہازوں کی عدم دستیابی اس مشن میں برطانیہ کی شرکت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -