-Advertisement-

امریکی ووٹرز میں ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کے خلاف عدم اطمینان میں اضافہ، سروے رپورٹ

تازہ ترین

ہینٹا وائرس کے پھیلاؤ کا شکار کروز شپ ٹینریف پہنچ گیا، مسافروں کا انخلا شروع

ہینٹا وائرس کے مہلک پھیلاؤ کا شکار ہونے والا کروز جہاز اتوار کی صبح ٹینریف کے علاقے پورٹ آف...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مہنگائی اور معاشی بحران سے نمٹنے کے اقدامات پر نصف سے زائد امریکی ووٹرز نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ فائنینشل ٹائمز کے لیے ریسرچ فرم فوکل ڈیٹا کی جانب سے کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق نومبر میں ہونے والے کانگریسی وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹرز کے لیے مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سب سے بڑی تشویش ہیں۔

سروے کے نتائج کے مطابق تقریباً 58 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا ماننا ہے کہ ٹرمپ مہنگائی اور زندگی گزارنے کے اخراجات کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کے علاوہ نصف سے زیادہ افراد نے روزگار کے مواقع اور مجموعی معاشی صورتحال پر بھی اپنی ناراضی ظاہر کی ہے۔

سروے میں شامل 55 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں نے امریکی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ صرف ایک چوتھائی افراد ہی ان کی تجارتی پالیسیوں کو فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث ایندھن اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ میں پیٹرول کی اوسط قیمت چار اعشاریہ چھ صفر ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی تھی، جو ایران کے ساتھ تنازع شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں پچاس فیصد زیادہ ہے۔ فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی ہے جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں کمی آئی ہے۔

سروے کے مطابق 54 فیصد ووٹرز ایران کے ساتھ جاری تنازع پر ٹرمپ کی حکمت عملی سے غیر مطمئن ہیں۔ یہاں تک کہ ریپبلکن پارٹی کے حامیوں میں سے بھی ہر پانچ میں سے ایک فرد اس معاملے پر اپنی قیادت سے خوش نہیں ہے۔ مجموعی طور پر ٹرمپ کی صدارتی کارکردگی کو 54 فیصد ووٹرز نے مسترد کیا ہے جبکہ صرف 39 فیصد نے ان کی حمایت کی ہے۔

سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر آٹھ پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ ریپبلکنز فی الحال کانگریس کے دونوں ایوانوں پر قابض ہیں تاہم ڈیموکریٹس نومبر میں ان پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش ڈیسائی نے ان پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکسوں میں کٹوتی اور توانائی کے ایجنڈے سے امریکی معیشت مستحکم رہے گی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی آتے ہی پیٹرول کی قیمتوں اور مہنگائی میں بہتری آئے گی۔

یہ آن لائن سروے یکم مئی سے پانچ مئی کے درمیان تین ہزار ایک سو سڑسٹھ رجسٹرڈ ووٹرز کے درمیان کیا گیا، جس میں غلطی کا امکان دو اعشاریہ ایک فیصد تک ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -