سعودی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ناصر نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران عالمی منڈیوں میں ایک ارب بیرل تیل کی کمی واقع ہوئی ہے اور اگر سمندری راستے بحال بھی ہو جائیں تو توانائی کے عالمی بازاروں کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں تعطل کے باعث توانائی کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
آرامکو کی جانب سے پہلی سہ ماہی کے منافع میں پچیس فیصد اضافے کے اعلان کے بعد امین ناصر نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد دباؤ کے باوجود توانائی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپلائی لائنز کا دوبارہ کھلنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ منڈی فوری طور پر معمول پر آ جائے گی کیونکہ عالمی سطح پر تیل کے ذخائر پہلے ہی کم ہیں اور برسوں سے کی جانے والی ناکافی سرمایہ کاری نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی شدید دباؤ کا شکار ہے جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی آرامکو اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا استعمال کر رہی ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے گریز کرتے ہوئے خام تیل کو بحیرہ احمر تک پہنچایا جا سکے، جسے امین ناصر نے عالمی سپلائی کے لیے ایک اہم لائف لائن قرار دیا ہے۔
آرامکو کے سربراہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایشیا اب بھی کمپنی کی اولین ترجیح ہے اور عالمی طلب کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ امین ناصر نے مارچ میں خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو عالمی تیل کی منڈیوں کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خطے کی تیل اور گیس کی صنعت کو درپیش اب تک کا سب سے بڑا بحران ہے اور اس تعطل کا دورانیہ جتنا طویل ہوگا، عالمی معیشت کے لیے نتائج اتنے ہی ہولناک ہوں گے۔
