-Advertisement-

اسرائیل کا ایران کے خلاف عراق میں خفیہ فوجی اڈہ قائم کرنے کا انکشاف

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کی قطری ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

وزیراعظم شہباز شریف سے قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے ٹیلی فون پر...
-Advertisement-

اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی مہم میں معاونت کے لیے عراقی صحرا میں ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کر رکھا تھا، جس کی موجودگی کا انکشاف ہونے پر اسرائیلی افواج نے عراقی دستوں پر فضائی حملے کیے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام اور معاملے سے واقف ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ہفتے کے روز یہ رپورٹ شائع کی۔

رپورٹ کے مطابق یہ تنصیب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز سے کچھ عرصہ قبل قائم کی گئی تھی، جس سے امریکی حکام بھی آگاہ تھے۔ اس اڈے میں اسرائیلی اسپیشل فورسز تعینات تھیں اور یہ اسرائیلی فضائیہ کے لیے لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کر رہا تھا۔

اسرائیلی اڈے میں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی موجود تھیں جن کا مقصد کسی بھی حادثے کی صورت میں اسرائیلی پائلٹس کو بحفاظت نکالنا تھا۔ تاہم، مارچ کے اوائل میں ایک مقامی چرواہے کی جانب سے ہیلی کاپٹروں کی غیر معمولی نقل و حرکت کی اطلاع کے بعد یہ خفیہ ٹھکانہ تقریباً بے نقاب ہو گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جب عراقی فوجی دستے اس علاقے کی تحقیقات کے لیے پہنچے تو اسرائیلی فورسز نے انہیں دور رکھنے اور اڈے کو خفیہ رکھنے کے لیے فضائی حملوں کا سہارا لیا۔

اس واقعے کے بعد مارچ کے آخر میں عراق نے اقوام متحدہ میں ایک باضابطہ شکایت درج کرائی، جس میں غیر ملکی افواج اور فضائی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا گیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس معاملے سے واقف ایک شخص نے واضح کیا ہے کہ اس حملے میں امریکہ براہِ راست ملوث نہیں تھا۔

دوسری جانب، خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے رابطہ کرنے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ رائٹرز آزادانہ طور پر ان دعووں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -