-Advertisement-

روس اور یوکرین کا ایک دوسرے پر امریکی ثالثی میں طے شدہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام

تازہ ترین

مراکش میں تربیتی مشق کے دوران لاپتہ ہونے والے امریکی فوجی کی لاش برآمد

امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ مراکش میں سالانہ تربیتی مشقوں کے دوران لاپتہ ہونے والے امریکی فوجی...
-Advertisement-

روس اور یوکرین نے اتوار کے روز ایک دوسرے پر امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دونوں جانب سے ڈرون اور توپ خانے کے حملوں میں جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ روس اور یوکرین تین روزہ جنگ بندی کے دوران ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ کریں گے، یہ وقفہ روس میں وکٹری ڈے کی تقریبات کے ساتھ منسلک تھا۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ روس جنگ بندی کا احترام نہیں کر رہا اور نہ ہی اس کی سنجیدہ کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بڑے پیمانے پر حملوں میں کمی کے باوجود محاذوں پر کشیدگی برقرار ہے اور یوکرین ماسکو کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

زیلنسکی نے مزید کہا کہ یوکرین نے روس کی جانب سے بڑے حملے نہ ہونے پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے جوابی اقدامات سے گریز کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روس نے مکمل جنگ کی طرف واپسی کا فیصلہ کیا تو یوکرین کا ردعمل فوری اور فیصلہ کن ہوگا۔

زاپوریژیا ریجن کے سربراہ ایوان فیڈروف کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران روسی حملوں میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے، جبکہ یوکرین کے دیگر علاقوں میں مزید سولہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے ریاستی میڈیا کے ذریعے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے ایک ہزار سے زائد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یوکرین نے روسی علاقوں میں شہری تنصیبات اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس کا روس نے بھرپور جواب دیا ہے۔

روسی زیر قبضہ خیرسون ریجن کے سربراہ ولادیمیر سالڈو نے بتایا کہ یوکرینی گولہ باری سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ یہ وقفہ جنگ کے خاتمے کی ابتدا ہو سکتا ہے، تاہم جنگ بندی کے دورانیے پر دونوں ممالک کے درمیان ابہام پایا جاتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ عارضی جنگ بندی ہفتے سے پیر تک نافذ رہنی تھی جس پر دونوں فریقین بظاہر متفق نظر آئے تھے۔

روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف نے اتوار کو کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکہ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جلد ماسکو کا دورہ کریں گے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ روس اپنے اس مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گا کہ یوکرین اپنی فوجیں مشرقی ڈونباس کے علاقے سے نکالے۔ اوشاکوف کا کہنا تھا کہ اس مطالبے کی تکمیل کے بغیر مذاکرات کے کئی دور بھی بے سود رہیں گے۔

ماسکو اور کیف کے درمیان گہرے عدم اعتماد کے باعث ماضی میں ہونے والی جنگ بندیاں بھی ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ یوکرین میں روسی جارحیت کو چار سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور امریکہ کی قیادت میں جاری سفارتی کوششیں تاحال کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہی ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -