-Advertisement-

ایران: جنگ کے خدشات کے پیشِ نظر تاریخی مقامات کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات

تازہ ترین

سری لنکا: کم سن بچی کے جنسی استحصال کے الزام میں ممتاز بدھ بھکشو گرفتار

سری لنکا کی پولیس نے گیارہ سالہ بچی کے مبینہ جنسی استحصال کے الزام میں ایک اعلیٰ ترین بدھ...
-Advertisement-

تہران کے تاریخی ورثے پر جنگ کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کے باعث عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے گئے مقامات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی دارالحکومت میں ہونے والے حملوں کے بعد گلستان پیلس کے شیشے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ عمارت کے چھتوں کا ملبہ اور دروازے بکھرے پڑے ہیں۔ اٹھائیس فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے یہ تاریخی مقام زبوں حالی کا شکار ہے۔

گلستان پیلس کے شعبہ ٹیکنیکل انجینئرنگ کے سربراہ اور بحالی کے ماہر علی امید علی کا کہنا ہے کہ نقصان کا ابتدائی اندازہ لگایا جا رہا ہے تاہم مکمل تخمینہ لگانے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال ٹیمیں ڈھانچوں کو مزید گرنے سے بچانے کے لیے کام کر رہی ہیں، جبکہ مکمل بحالی کا عمل شروع کرنے کے لیے حالات کا مستحکم ہونا ضروری ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس کام پر سترہ لاکھ ڈالر لاگت آ سکتی ہے اور اس میں دو سال سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

گلستان پیلس کے میوزیم کے ڈائریکٹر جبار اوج کے مطابق محل کے پچاس سے ساٹھ فیصد دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شیش محل اور ماربل تھرون کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ محل دو ہزار تیرہ سے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔

ایران کی نیشنل کمیشن برائے یونیسکو کے سربراہ حسن فارتوسی نے بتایا کہ جنگ کے دوران ملک بھر میں کم از کم ایک سو چالیس تاریخی مقامات متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں چہل ستون محل، اصفہان کی مسجد جامع اور خرم آباد وادی کے قدیم مقامات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بحالی کے باوجود ان مقامات کی اصل حیثیت کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

آٹھ اپریل سے جاری جنگ بندی کے باوجود ایران کو فنڈز کی قلت کا سامنا ہے۔ حکومتی سطح پر ابھی تک بحالی کے کسی بجٹ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے جبکہ بین الاقوامی اداروں کے پاس بھی محدود وسائل ہیں۔ حسن فارتوسی کا کہنا ہے کہ ان تاریخی مقامات کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ان کی قیمت کا تعین ممکن نہیں ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -