کیف اور واشنگٹن کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک نئے معاہدے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ اور امریکہ میں یوکرین کی سفیر اولہا اسٹیفنشینا نے ایک مسودہ تیار کیا ہے جس کے تحت یوکرین کو امریکی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے ڈرون تیار کرنے اور عسکری ٹیکنالوجی امریکہ برآمد کرنے کی اجازت مل سکے گی۔
یوکرین نے گزشتہ چار برسوں کے دوران روس کے ساتھ جاری طویل جنگ کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈرون ٹیکنالوجی میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔ یوکرین نے مشرق وسطیٰ میں اپنے ڈرون انٹرسیپٹرز اور ماہرین بھیجے ہیں تاکہ امریکی اتحادیوں کو ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کے حملوں سے بچایا جا سکے، جو روس کی جانب سے یوکرین کے شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر اپنے پیغام میں بتایا کہ اب تک تقریباً 20 ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے جن میں سے 4 معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں اور ان کے تحت پہلے معاہدوں کی تیاری مکمل کی جا رہی ہے۔ یوکرین نے حال ہی میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی دفاعی معاہدے کیے ہیں۔
یوکرین کی جانب سے ڈرون تعاون کی یہ تجویز اگست 2025 میں وائٹ ہاؤس کو پیش کی گئی تھی۔ یہ پیشرفت آپریشن اسپائیڈر ویب کی کامیابی کے بعد سامنے آئی، جس میں یوکرینی ڈرونز نے روسی حدود کے اندر گہرائی میں جا کر متعدد روسی طیاروں کو تباہ کیا تھا۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ اس شراکت داری سے دونوں ممالک کی دفاعی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔
یوکرین کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق 2026 میں دفاعی پیداوار کی صلاحیت 55 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، تاہم اس وقت یوکرین کے پاس رواں برس صرف 15 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار خریدنے کی گنجائش ہے۔ وزارت اسٹریٹجک انڈسٹریز کے مشیر یوری ساک کے مطابق اس ہدف کے حصول کے لیے بیرونی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
یوکرینی کمپنیاں کم قیمت والے ڈرونز کی تیاری میں عالمی سطح پر منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ایک یوکرینی کمپنی نے 2026 میں 30 لاکھ سے زائد فرسٹ پرسن ویو ڈرونز تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ امریکہ نے 2025 میں صرف 3 لاکھ ڈرونز تیار کیے تھے۔ اس کے علاوہ یوکرینی کمپنی سائن انجینئرنگ نے ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس سے ڈرونز جی پی ایس کے بغیر بھی جیمنگ سے بچ کر پرواز کر سکتے ہیں۔
اگرچہ امریکی محکمہ دفاع اور وائٹ ہاؤس کے کچھ حلقوں کی جانب سے اس تعاون پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا اور صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں یوکرینی مدد کی ضرورت کو مسترد کرتے ہوئے امریکی ٹیکنالوجی کو بہترین قرار دیا تھا، تاہم موجودہ مسودے سے ظاہر ہوتا ہے کہ رکاوٹیں دور ہو رہی ہیں۔ صدر زیلنسکی نے واضح کیا ہے کہ یوکرین جلد ہی دنیا کے دیگر حصوں میں بھی اپنے ڈرون معاہدوں کا دائرہ کار بڑھائے گا اور اس حوالے سے جلد خوشخبری سنائی جائے گی۔
