-Advertisement-

پینٹاگون کے 1.5 ٹریلین ڈالر بجٹ کا مطالبہ: ہیگسیتھ اور جنرل کین کانگریسی کمیٹیوں کے سامنے پیش

تازہ ترین

کیوبا مدد کا خواہشمند، امریکا مذاکرات کے لیے تیار: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ کیوبا کی جانب سے مدد کی درخواست...
-Advertisement-

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ اور جوائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل ڈین کین منگل کے روز کانگریس کی ذیلی کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ یہ پیشی پینٹاگون کے بجٹ کے مطالبات کے تناظر میں ہو رہی ہے جس میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کے فنڈز کی درخواست کی ہے۔

یہ دونوں اعلیٰ حکام ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی ایپروبریشن ذیلی کمیٹیوں کے سامنے الگ الگ سماعتوں میں شریک ہوں گے۔ مالی سال 2027 کے لیے پیش کردہ ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کا یہ بجٹ کانگریس کے ساتھ سالانہ اخراجات پر مذاکرات کا نقطہ آغاز ہے، جو سن 2026 کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں 42 فیصد زیادہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کی کوششیں دم توڑ رہی ہیں اور انہوں نے تہران کی جانب سے پیش کردہ امن فارمولے کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پٹرولیم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر گیس ٹیکس معطل کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔

سینیٹ کی ایپروبریشن کمیٹی کے رکن اور ڈیموکریٹک سینیٹر مارک کیلی نے ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کے بجٹ کو ہوشربا قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے پانچ سال قبل جب وہ سینیٹ میں آئے تھے تو دفاعی بجٹ 700 ارب ڈالر سے کچھ ہی زیادہ تھا، اب اس سے دگنی رقم مانگی جا رہی ہے جو دنیا بھر کے دیگر ممالک کے مجموعی دفاعی اخراجات کے قریب ہے۔

یہ سماعتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ جنگ کی کانگریس سے باقاعدہ منظوری نہ لینے پر شدید ردعمل کا سامنا ہے۔ جنگی اختیارات کے حوالے سے متعدد قراردادیں ناکام ہونے کے باوجود ریپبلکن سینیٹرز سوزن کولنز اور رینڈ پال نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکووسکی نے ایران میں طاقت کے استعمال کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

وزیر دفاع ہیگسیٹھ نے گزشتہ ماہ کانگریس کی کمیٹیوں کو بتایا تھا کہ ایران کے ساتھ تنازع پر اب تک 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اندرونی جائزوں کے مطابق یہ لاگت 50 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -