-Advertisement-

بحیرہ ایجیئن میں ڈوبے جہاز سے یونانی پارتھینن کا قدیم نوادرات دریافت

تازہ ترین

ایران پر حملے سے قبل جاپان کو آگاہ نہ کرنے پر ٹرمپ کا پرل ہاربر کا حوالہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں جاپانی وزیراعظم سنائے تاکائچی کے ساتھ ملاقات کے دوران ایران پر...
-Advertisement-

یونانی جزیرے کتھیرا کے ساحل پر ڈوبنے والے ایک قدیم برطانوی بحری جہاز کے ملبے سے سنگ مرمر کا ایک نایاب ٹکڑا دریافت ہوا ہے، جس کا تعلق مبینہ طور پر ایتھنز کے قدیم پارتھینون مندر سے ہونے والی تاریخی لوٹ مار سے جوڑا جا رہا ہے۔

یونانی وزارت ثقافت کے مطابق یہ دریافت مینٹور نامی اس بحری جہاز کے ملبے سے ہوئی ہے جو برطانوی سفارت کار لارڈ ایلگن کی ملکیت تھا۔ لارڈ ایلگن اسی جہاز کے ذریعے یونان سے نوادرات برطانیہ منتقل کیا کرتے تھے۔

تاریخی اعتبار سے لارڈ ایلگن کی جانب سے اٹھارویں صدی کے اوائل میں پارتھینون سے نکالے گئے مجسمے اور نوادرات طویل عرصے سے تنازع کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ یونان ان نوادرات کی واپسی کا مطالبہ کرتا رہا ہے جنہیں وہ لوٹ مار قرار دیتا ہے، جبکہ برطانیہ کا موقف ہے کہ یہ نوادرات سلطنت عثمانیہ کی اجازت سے حاصل کیے گئے تھے۔

مینٹور نامی یہ جہاز ستمبر 1802 میں کتھیرا کے ساحل پر بحیرہ ایجیئن میں ڈوب گیا تھا۔ وزارت ثقافت کے مطابق حال ہی میں ملنے والا سنگ مرمر کا ٹکڑا آرائشی نوعیت کا ہے اور اس پر موجود نقوش پارتھینون کے فن تعمیر سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس ٹکڑے کی لمبائی 3.6 انچ اور چوڑائی 1.85 انچ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس دریافت کی مزید سائنسی جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ اس بات کی حتمی تصدیق کی جا سکے کہ یہ ٹکڑا اصل میں پارتھینون کے کس حصے کا حصہ تھا۔ اس سے قبل بھی اس مقام سے برتنوں کے ٹکڑے، جہاز کے ڈھانچے کی تانبے کی پلیٹنگ اور مٹی کی سلیبیں دریافت ہو چکی ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -