پاکستان کرکٹ بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باوجود پاکستان سپر لیگ اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوگی۔ پی سی بی نے تمام فرنچائزز کو کھلاڑیوں کی آمد اور ٹریننگ کے امور سے آگاہ کر دیا ہے۔ کھلاڑیوں کی لاہور آمد کا سلسلہ 23 مارچ سے شروع ہوگا جبکہ 24 اور 25 مارچ کو ٹیمیں پریکٹس سیشنز میں حصہ لیں گی۔ ٹورنامنٹ کا آغاز 26 مارچ کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز اور حیدرآباد کنگز کے درمیان میچ سے ہوگا۔
خطے میں کشیدگی کے باعث فضائی سفر میں درپیش مشکلات کے پیش نظر ٹیمیں متبادل راستوں کا انتخاب کر رہی ہیں۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے کھلاڑی براہ راست پروازوں سے پہنچیں گے جبکہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے کھلاڑی تھائی لینڈ، سنگاپور اور ترکش ایئرلائنز کے روٹس استعمال کریں گے۔ غیر ملکی میڈیا میں آسٹریلوی کھلاڑیوں کی ہچکچاہٹ کی خبریں زیر گردش ہیں تاہم پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کسی بھی غیر ملکی کھلاڑی نے عدم دستیابی کا اظہار نہیں کیا۔
پی سی بی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ 28 مارچ کو پشاور زلمی اور راولپنڈی کے درمیان میچ سمیت تمام شیڈول برقرار ہے۔ حکام کے مطابق ایونٹ کو پاکستان سے باہر منتقل کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جو سربراہان مملکت کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی کے معیار کے مطابق ہوں گے۔
انتیس دنوں پر محیط اس ٹورنامنٹ میں کل 44 میچز کھیلے جائیں گے جو لاہور، کراچی، ملتان، راولپنڈی، پشاور اور فیصل آباد کے اسٹیڈیمز میں منعقد ہوں گے۔ لیگ کا فائنل 3 مئی کو کھیلا جائے گا۔ یہ پی ایس ایل کی تاریخ کا پہلا ایڈیشن ہوگا جس میں آٹھ ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کے لیے مدمقابل ہوں گی۔
