-Advertisement-

ایران کا امریکی ردعمل کا جائزہ، فوجی کارروائی کے نتائج سے خبردار

تازہ ترین

بھارت کے ساتھ کشیدگی: پاکستان کا دو ٹوک مگر ذمہ دارانہ موقف برقرار

راولپنڈی میں جاری ایک بیان کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران عالمی سطح پر ایک...
-Advertisement-

ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اب ایک مشکل انتخاب کا سامنا ہے، جس میں اسے یا تو ایک ناممکن فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا یا پھر تہران کے ساتھ کسی معاہدے پر آمادہ ہونا پڑے گا۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی حالیہ امن پیشکش کو مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات آٹھ اپریل کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں اور تاحال براہ راست مذاکرات کا صرف ایک دور ہی منعقد ہو سکا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ تہران نے جنگ کے خاتمے پر مرکوز چودہ نکاتی منصوبہ پاکستانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو پہنچا دیا ہے، جس پر فی الحال غور کیا جا رہا ہے۔

تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس منصوبے کا جائزہ لیں گے لیکن انہیں نہیں لگتا کہ یہ قابل قبول ہوگا، کیونکہ ایران نے گزشتہ سینتالیس برسوں میں انسانیت اور دنیا کے خلاف جو کچھ کیا ہے، اس کی اسے ابھی تک بھاری قیمت چکانی باقی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایرانی منصوبے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران و لبنان میں جاری جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکہ کے پاس فیصلہ سازی کا دائرہ کار محدود ہو چکا ہے اور اسے اب ایک ناممکن آپریشن یا برے معاہدے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

دوسری جانب، جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈفل نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو میں زور دیا کہ جرمنی مذاکرات کے ذریعے حل کا حامی ہے، تاہم ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے کوئی غلط قدم اٹھایا یا بدتمیزی کی تو فوجی کارروائی کا امکان موجود ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران پر مکمل اقتصادی ناکہ بندی کر رہا ہے جس سے تہران کے لیے اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

اس کشیدگی کے درمیان ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر دھمکی دی ہے کہ ایرانی افواج امریکی بحری جہازوں کو غرق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ادھر ایران کے اندر جنگ کے باعث معاشی بحران شدید تر ہو چکا ہے، جہاں افراط زر کی شرح پچاس فیصد سے تجاوز کر گئی ہے اور تیل کی برآمدات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -