-Advertisement-

خطے میں کشیدگی: حکومت کی جانب سے ایندھن کی بچت اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

تازہ ترین

پاکستان کا جنگ بندی کی خلاف ورزی کا افغان طالبان کا دعویٰ مسترد

اسلام آباد میں وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی جانب سے آپریشن غضب الحق کے دوران جنگ بندی کی...
-Advertisement-

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین میں ممکنہ تعطل اور ایندھن کے ذخائر کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران ایران اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

وزیراعظم نے وفاقی حکومت کی جانب سے ایندھن کی بچت کے لیے ہنگامی اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے صوبوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کرنے کا حکم دیا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مزید ایندھن کی خریداری کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم علاقائی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ برقرار ہے، جس کے باعث عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کار پولنگ جیسے اقدامات اپنائیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ موجودہ بحرانی کیفیت میں کفایت شعاری کی پالیسی ہی ریلیف کی فراہمی کا واحد ذریعہ ہے۔ انہوں نے انٹیلی جنس بیورو کو ہدایت کی کہ سرکاری سطح پر نافذ کیے گئے کفایت شعاری کے اقدامات کا آڈٹ کیا جائے اور اس پر عمل درآمد کی رپورٹ براہ راست وزیراعظم آفس کو بھجوائی جائے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل میں کسی بھی قسم کی بے قاعدگی کی روک تھام کے لیے کڑی نگرانی کی جائے گی۔ اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور متعلقہ وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔

حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتے اعلان کردہ کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت سرکاری گاڑیوں کے ایندھن الاؤنس میں پچاس فیصد کٹوتی اور ہفتے میں چار دن کام کرنے کا فیصلہ پہلے ہی نافذ العمل ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری شعبے میں پچاس فیصد عملے کو ورک فرام ہوم کی سہولت دی گئی ہے تاہم ضروری خدمات فراہم کرنے والے ادارے اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -