-Advertisement-

زرتاشا کاشف کی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ: والد جذباتی ہو گئے

تازہ ترین

غیر جانبداری کے پیشِ نظر سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو اسلحہ کی برآمدات روک دیں

سوئٹزرلینڈ نے ایران کے خلاف جاری امریکی حملوں کے تناظر میں امریکہ کو جنگی سازوسامان کی برآمد کے لیے...
-Advertisement-

سوشل میڈیا پر تاشو کے نام سے مشہور کم عمر ماڈل اور مواد تخلیق کار زرتاشہ کاشف ان دنوں ایک نئی بحث کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ شانِ رمضان نشریات میں شرکت کے بعد ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن پر صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ جہاں کچھ حلقوں نے ان کے انداز کو سراہا وہیں ایک طبقے نے ان کے تبصروں اور طرزِ عمل پر تنقید بھی کی۔

اس تنقید کے بعد زرتاشہ کے والد نے اپنی بیٹی کو درپیش آن لائن ہراسانی پر شدید دکھ اور اضطراب کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی چھ سالہ بیٹی کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔

دوسری جانب کنٹینٹ کری ایٹر ماہین انواری نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو کے ذریعے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ زرتاشہ کے والدین اپنی بیٹی کو سوشل میڈیا کی شہرت اور سیاسی بیانات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بچی کو اٹھارہ سال کی عمر تک اس ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھیں۔

جواب میں زرتاشہ کے والد نے جذباتی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ایف آئی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی بیٹی کو آن لائن بدمعاشی سے بچانے کے لیے فوری مداخلت کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زرتاشہ نے کبھی کسی غیر مناسب شوٹ میں حصہ نہیں لیا اور وہ صرف اپنے حب الوطنی کے جذبات کا اظہار کر رہی ہے۔

زرتاشہ کے والد کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ان کی بیٹی کا نہیں بلکہ پاکستان کے ہر بچے کے تحفظ اور وقار کا ہے اور وہ اس حوالے سے انصاف اور احتساب کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ان کی بیٹی کو ہدف بنانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

والد نے زرتاشہ کی جانب سے رمضان المبارک میں کیے گئے عطیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی مثبت کاموں میں پیش پیش ہے۔ ان کے مطابق زرتاشہ دیگر بچوں کے لیے ایک مثال ہے جس نے ثابت کیا ہے کہ نیکی کرنے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -