کراچی میں محکمہ انسداد دہشت گردی سندھ نے ریلوے تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔ سی ٹی ڈی نے خفیہ اطلاعات پر مبنی مشترکہ آپریشن کے دوران کالعدم بلوچ ریپبلکن گارڈ سے منسلک پانچ مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے جن کے بھارتی خفیہ ایجنسی سے روابط کا انکشاف ہوا ہے۔
حکام کے مطابق یہ آپریشن سی ٹی ڈی، رینجرز اور ایک وفاقی خفیہ ادارے نے مشترکہ طور پر کیا جس کے نتیجے میں شہر قائد میں ریلوے ٹریک کو نشانہ بنانے کی سازش کو ناکام بنایا گیا۔ گرفتار ملزمان کا تعلق ایک ایسے نیٹ ورک سے ہے جو سندھ بھر میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ ملزمان جیکب آباد اور شکارپور میں ریلوے ٹریکس اور بوگیوں کو دھماکوں سے نشانہ بنانے کے واقعات میں ملوث تھے۔ ان کارروائیوں کی ذمہ داری گروپ نے سوشل میڈیا کے ذریعے قبول کی تھی۔ تفتیش کے دوران ملزمان نے 6 جون 2025 کو جیکب آباد میں ٹرین بم دھماکے، 28 جولائی 2025 کو شکارپور ریلوے اسٹیشن کے قریب دھماکے اور 7 اکتوبر 2025 کو جعفر ایکسپریس پر حملے کا اعتراف کیا ہے جس میں سات مسافر زخمی ہوئے تھے۔
آپریشن کے دوران ملزمان کے قبضے سے دھماکا خیز مواد، آئی ای ڈیز، جدید اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ملزمان نے بلوچستان کے علاقے لہڑی میں تربیت حاصل کی تھی اور دھماکا خیز مواد کی ترسیل کے لیے اپنے اہل خانہ کا سہارا لیتے تھے تاکہ سیکیورٹی اداروں کی نظروں سے بچ سکیں۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظہر مہیسر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ گرفتاری دہشت گرد نیٹ ورک کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مالی معاونت حاصل ہے اور یہ نیٹ ورک سرحد پار سے آپریٹ کیا جا رہا ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے نیٹ ورک کے باقی ماندہ ارکان کی گرفتاری اور غیر ملکی روابط کے خاتمے کے لیے تفتیش جاری ہے۔
