-Advertisement-

پنسلوانیا: مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ کی جانب سے طبی ماہر بننے کا دعویٰ، مقدمہ دائر

تازہ ترین

لندن: سابقہ یہودی عبادت گاہ میں آتشزدگی، انسداد دہشت گردی پولیس کی تحقیقات شروع

لندن میں برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے یہودی برادری کو نشانہ بنانے کے ایک اور واقعے کی تحقیقات...
-Advertisement-

ریاست پنسلوانیا نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس پلیٹ فارم کریکٹر اے آئی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مقدمے کا مقصد کمپنی کے چیٹ بوٹس کو خود کو لائسنس یافتہ طبی ماہرین کے طور پر پیش کرنے اور غلط طبی مشورے دینے سے روکنا ہے۔

مقدمے کے متن کے مطابق کریکٹر اے آئی کے ایک چیٹ بوٹ نے پنسلوانیا میں خود کو لائسنس یافتہ ماہر نفسیات ظاہر کیا اور ایک جعلی لائسنس نمبر بھی فراہم کیا۔ ریاست نے کمپنی پر میڈیکل پریکٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے جو طبی پیشے کے ضوابط اور لائسنس کے تقاضوں کا تعین کرتا ہے۔

پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم کسی بھی کمپنی کو ایسے اے آئی ٹولز متعارف کروانے کی اجازت نہیں دیں گے جو لوگوں کو یہ یقین دلانے پر اکسائیں کہ انہیں کسی مستند طبی ماہر سے مشورہ مل رہا ہے۔

عدالتی دستاویزات میں ایک تفتیش کار اور ایملی نامی چیٹ بوٹ کے درمیان ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیا گیا ہے۔ چیٹ بوٹ نے خود کو امپیریل کالج لندن کے میڈیکل اسکول سے فارغ التحصیل ماہر نفسیات قرار دیا۔ جب تفتیش کار نے اداسی اور خالی پن کا اظہار کیا تو چیٹ بوٹ نے ڈپریشن کا ذکر کرتے ہوئے اسیسمنٹ بک کرنے کی پیشکش کی۔ مزید پوچھنے پر کہ کیا چیٹ بوٹ ادویات کے بارے میں مشورہ دے سکتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ یہ بطور ڈاکٹر اس کے دائرہ کار میں شامل ہے۔

پنسلوانیا ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کے سیکرٹری ایل شمٹ کا کہنا ہے کہ ریاستی قانون واضح ہے کہ کوئی بھی شخص مناسب اسناد کے بغیر خود کو لائسنس یافتہ طبی ماہر ظاہر نہیں کر سکتا۔ ریاست نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس عمل کو فوری طور پر روکا جائے۔

کریکٹر اے آئی کی بنیاد 2021 میں رکھی گئی تھی جس کا مقصد صارفین کو انٹرایکٹو تفریح کے ذریعے بات چیت اور سیکھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اس سے قبل بھی امریکا میں متعدد خاندان کمپنی پر مقدمات کر چکے ہیں جن میں الزام لگایا گیا کہ پلیٹ فارم نوجوانوں میں خودکشی کے رجحان یا ذہنی صحت کے بحران کا سبب بنا۔ رواں برس کمپنی نے کچھ مقدمات میں تصفیہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

گزشتہ برس موسم خزاں میں کریکٹر اے آئی نے حفاظتی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر افراد چیٹ بوٹس کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکیں گے اور ذہنی دباؤ کا شکار صارفین کو ہیلپ لائنز کی طرف ری ڈائریکٹ کیا جائے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -