مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین کے قریب واقع قصبے صلت الظہر میں منگل کے روز ایک اسرائیلی آباد کار نے اپنی گاڑی اسکول کے احاطے میں گھسا دی اور اسلحہ لہرا کر طالب علموں کا پیچھا کیا۔ اس واقعے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
عینی شاہدین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ حملہ آور نے گاڑی کے ذریعے اسکول کے احاطے میں داخل ہو کر طلبا کو خوفزدہ کیا اور اسلحہ دکھا کر انھیں ہراساں کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آباد کار کے حملے کے بعد طلبا اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کی جانب سے حملوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جس کا مقصد مقامی آبادی کو دباؤ میں لا کر ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا ہے تاکہ غیر قانونی بستیوں کی توسیع کی جا سکے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تقریباً سات لاکھ پچاس ہزار اسرائیلی آباد کار غیر قانونی بستیوں میں مقیم ہیں۔
فلسطینی کمیشن برائے مزاحمتِ دیوار و آبادکاری کے مطابق صرف اپریل کے مہینے میں اسرائیلی فورسز اور آباد کاروں کی جانب سے سولہ سو سینتیس حملے کیے گئے جن میں املاک کو نقصان پہنچانا اور زرعی زمینوں پر قبضہ شامل ہے۔
اکتوبر دو ہزار تئیس میں غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں گیارہ سو پچپن سے زائد فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ جولائی دو ہزار چوبیس میں عالمی عدالت انصاف نے ایک تاریخی رائے میں اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سے تمام آباد کاروں کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔
