-Advertisement-

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، ہنڈریڈ انڈیکس 790 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند

تازہ ترین

کرپٹو کرنسی ایکسچینج کوائن بیس کا مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے 700 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کمپنی کوائن بیس نے منگل کے روز اپنی افرادی قوت میں 14 فیصد کمی کا اعلان...
-Advertisement-

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز کاروبار کے دوران شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ سرمایہ کاروں نے ملکی معاشی اعداد و شمار اور دن بھر کے بدلتے رجحانات کے پیش نظر محتاط رویہ اختیار کیا۔

ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق اپریل 2026 میں تجارتی خسارہ گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں 3 اعشاریہ 82 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جس کا اثر صبح کے وقت سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی پڑا۔

کاروبار کے آغاز پر کے ایس ای 100 انڈیکس کو شدید دباؤ کا سامنا رہا اور صبح ساڑھے نو بجے تک انڈیکس 1300 پوائنٹس سے زائد گر گیا تھا۔ ابتدائی فروخت کا یہ دباؤ بیرونی کھاتوں پر موجود دباؤ کے خدشات کی عکاسی کر رہا تھا۔

تاہم دن کے دوسرے حصے میں مارکیٹ میں بتدریج بحالی دیکھنے میں آئی۔ انڈیکس 164920 اعشاریہ 35 کی بلند ترین اور 162532 اعشاریہ 99 کی نچلی سطح کے درمیان گھومتا رہا۔ اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 793 اعشاریہ 53 پوائنٹس یا 0 اعشاریہ 48 فیصد اضافے کے ساتھ 164742 اعشاریہ 47 پوائنٹس پر بند ہوا۔

اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ محمد اویس اشرف کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس میں کوئی بھی مثبت پیش رفت مارکیٹ میں بڑی تیزی لا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث تجارتی خسارے میں اضافہ متوقع تھا اور اس کا اثر درآمدی بل پر بھی پڑا ہے۔

کے ٹریڈ سیکیورٹیز کے ایکویٹی ٹریڈر احمد شیراز کے مطابق انڈیکس میں اضافے کے باوجود مارکیٹ کا مجموعی رجحان سست اور غیر واضح رہا۔ ٹریڈنگ کے دوران حصص کا حجم 210 ملین رہا جو سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔

مارکیٹ کو سہارا دینے والے شعبوں میں کمرشل بینک اور ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن شامل رہے۔ فوجی فرٹیلائزر، پاکستان پیٹرولیم، ایم سی بی بینک، او جی ڈی سی، بینک الفلاح اور میزان بینک کے حصص نے انڈیکس کو سنبھالا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برینٹ آئل کی قیمت 113 ڈالر فی بیرل کے قریب ہونے سے ملکی بیرونی کھاتوں پر دباؤ برقرار ہے۔ مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ مارکیٹ کا موجودہ غیر یقینی اور خبروں پر مبنی رویہ فی الحال جاری رہ سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -