-Advertisement-

لندن: سابقہ یہودی عبادت گاہ میں آتشزدگی، انسداد دہشت گردی پولیس کی تحقیقات شروع

تازہ ترین

آبنائے ہرمز میں کشیدگی: امریکی وزیر دفاع کا جنگ بندی برقرار رہنے کا دعویٰ

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ نے منگل کے روز پینٹاگون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے...
-Advertisement-

لندن میں برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے یہودی برادری کو نشانہ بنانے کے ایک اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق منگل کے روز مشرقی لندن میں واقع ایک سابقہ عبادت گاہ میں جان بوجھ کر آگ لگائی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ آتش زنی کا واقعہ تھا تاہم اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ابھی تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے لندن میں بڑھتے ہوئے یہودی مخالف تشدد کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی وزراء، پولیس چیفس اور کمیونٹی رہنماؤں کے ساتھ ہنگامی اجلاس کیا۔ گزشتہ ہفتے شمالی لندن میں دو یہودی افراد کو چاقو کے وار کر کے زخمی کیا گیا تھا، جبکہ مارچ سے اب تک دارالحکومت میں متعدد عبادت گاہوں اور یہودی مقامات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے دوران اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کیا ان واقعات کے پیچھے کسی غیر ملکی ریاست کا ہاتھ تو نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے اور حکومت غیر ملکی خطرات سے نمٹنے کے لیے نئی قانون سازی کو تیز کرے گی۔

ایک گروپ جس کا نام حرکت اصحاب الیمین الاسلامیہ بتایا جاتا ہے، نے برطانیہ سمیت یورپ کے کئی ممالک میں حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس گروپ کا تعلق ایران سے جوڑا جا رہا ہے۔ مارچ میں اس گروپ کے ایک ترجمان نے سی بی ایس نیوز کو بتایا تھا کہ وہ غزہ، ایران اور لبنان میں بچوں کے انتقام کے لیے دنیا بھر میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بناتے رہیں گے۔

وزیراعظم سٹارمر نے خبردار کیا کہ ایران یا کوئی بھی دوسرا ملک جو معاشرے میں تشدد، نفرت یا تقسیم پھیلانے کی کوشش کرے گا، اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ادھر ایسٹ لندن میں پولیس کی سربراہ ڈیٹیکٹو چیف سپرنٹنڈنٹ برٹنی کلارک نے کہا کہ جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا وہ کافی عرصے سے عبادت گاہ کے طور پر فعال نہیں تھی، لیکن اس کے باوجود یہ واقعہ ٹاور ہیملٹس اور ہیکنی سمیت پوری یہودی برادری کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -