-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ بحران: پیوٹن کا ایران کو ‘وفادار اور قابلِ اعتماد ساتھی’ قرار

تازہ ترین

ہنگو: پولیس کے ساتھ مقابلے میں ایک دہشت گرد ہلاک، دو زخمی

ضلع ہنگو میں پولیس اور مسلح ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک...
-Advertisement-

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی قیادت کو نوروز کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو تہران کا ایک وفادار دوست اور قابل اعتماد شراکت دار ہے۔ کریملن کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق صدر پیوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو ایرانی نئے سال کے موقع پر تہنیتی پیغامات بھیجے ہیں۔

روسی صدر نے اپنے پیغام میں ایرانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ مشکل حالات اور سخت آزمائشوں پر وقار کے ساتھ قابو پا لیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کٹھن وقت میں ماسکو تہران کے ساتھ ایک مخلص دوست اور قابل اعتماد ساتھی کے طور پر کھڑا ہے۔

تاہم روس کی جانب سے ایران کو فراہم کردہ حمایت کی وسعت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کچھ ایرانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 1979 کے انقلاب کے بعد درپیش موجودہ بڑے بحران کے دوران ماسکو کی جانب سے ایران کو عملی طور پر بہت کم مدد ملی ہے۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں نے پورے مشرق وسطیٰ کو گہری کھائی میں دھکیل دیا ہے اور عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ صدر پیوٹن نے ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سفاکانہ قتل قرار دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی جریدے پولیٹیکو کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ماسکو نے واشنگٹن کو ایک سودے کی پیشکش کی تھی جس کے تحت اگر امریکہ یوکرین کو روس کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی بند کر دے تو کریملن ایران کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ روک دے گا۔ تاہم کریملن نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اسٹریٹجک شراکت داری کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کسی باہمی دفاعی معاہدے کا شق موجود نہیں ہے۔ روس نے بارہا اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ ایران ایٹمی بم تیار کرے کیونکہ ماسکو کو خدشہ ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام مشرق وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کا باعث بن سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -