متحدہ عرب امارات نے عالمی قوانین کے تحت اپنے دفاع کے موروثی حق کا اعادہ کرتے ہوئے ایران کی جانب سے شہری تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یو اے ای کے سفیر محمد ابو شہاب نے کہا کہ شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا نہ صرف ناقابل قبول بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔
سفیر محمد ابو شہاب نے انکشاف کیا کہ چار مئی کو ایران نے متحدہ عرب امارات پر بارہ بیلسٹک میزائل، تین کروز میزائل اور چار ڈرون داغے جس کے نتیجے میں فجیرہ میں توانائی کی ایک تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی اور تین افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اٹھائیس فروری سے شروع ہونے والے تنازع کے دوران متحدہ عرب امارات اب تک پانچ سو سے زائد بیلسٹک میزائل اور دو ہزار ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کر چکا ہے۔
یو اے ای کے مندوب نے خبردار کیا کہ اگر سلامتی کونسل نے بین الاقوامی قوانین کی ان کھلی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کی تو اس کی ساکھ داؤ پر لگ جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کونسل کو محض رسمی بیانات دینے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
بحرین کے سفیر جمال فارس الرویعی نے، جن کے ملک نے اس اجلاس کی درخواست کی تھی، ان حملوں کو گھناؤنا قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی سلامتی ناقابل تقسیم ہے اور ایسی کشیدگی استحکام کی بحالی کے سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں پر فیصلہ کن ردعمل دے۔
متحدہ عرب امارات کے سفیر نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا اثر صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت کے استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ دوسری جانب ایران کی عسکری قیادت نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کا اعلان فیصلہ کن انداز میں کیا جائے گا۔
