جنوبی کوریا کے شہر ڈیجیون میں واقع کار پرزہ جات بنانے والی ایک فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک جبکہ پچیس شدید زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق حادثے میں پینتیس افراد معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
فائر فائٹرز نے بتایا کہ جمعہ کی دوپہر ایک بجے کے قریب جب آگ بھڑکی تو فیکٹری میں تقریباً ایک سو ستر ملازمین موجود تھے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران ایک لاش پہلی منزل، چار دوسری اور نو لاشیں تیسری منزل سے برآمد کی گئیں۔
مقامی خبر رساں ادارے کے مطابق فیکٹری انجون انڈسٹریل کی ملکیت ہے جو ہیونڈائی موٹر اور کیا کارپوریشن سمیت دیگر کمپنیوں کو انجن والوز فراہم کرتی ہے۔ جائے وقوعہ پر موجود سوڈیم کے ذخائر کے باعث آگ بجھانے کے عمل میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ غیر محتاط ہینڈلنگ سے ان کے پھٹنے کا خدشہ تھا۔
وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ حادثے میں گیارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی جو بعد ازاں بڑھ کر چودہ ہو گئی، جبکہ تین افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ عینی شاہدین نے دھماکے کی آواز سننے کا دعویٰ کیا ہے تاہم آگ لگنے کی حتمی وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آ سکیں۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ نے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے احکامات جاری کیے جس کے بعد حکومت نے مرکزی ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم فعال کر دیا۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سون جو ہوان نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں واقعے پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ انہوں نے حادثے کی تحقیقات، حفاظتی نظام کا جائزہ لینے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا یقین دلایا ہے۔
