تہران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے، تاہم ایران کے دشمنوں سے وابستہ بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ بیان اقوام متحدہ کی میری ٹائم ایجنسی میں ایرانی نمائندے علی موسوی کی جانب سے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے کو مکمل طور پر نہیں کھولا گیا تو ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔
عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی پانچویں حصے کی ترسیل اس اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث پیدا ہونے والے کشیدہ حالات نے عالمی توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا کر دیا ہے جس کی وجہ سے اکثر جہازوں کی آمدورفت معطل ہے۔
علی موسوی نے کہا کہ تہران خلیج میں بحری تحفظ کو بہتر بنانے اور ملاحوں کی حفاظت کے لیے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو جہاز ایران کے دشمنوں سے منسلک نہیں ہیں، وہ تہران کے ساتھ سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کو مربوط کرکے آبنائے سے گزر سکتے ہیں۔
ایرانی نمائندے نے زور دیا کہ سفارت کاری ایران کی اولین ترجیح ہے، تاہم جارحیت کا مکمل خاتمہ اور باہمی اعتماد ناگزیر ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو قرار دیا۔ واضح رہے کہ ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں میں جنوبی اسرائیل کے دو قصبوں میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں جنگ بندی ہو جاتی ہے تو جاپان آبنائے ہرمز میں مائن سویپنگ کے لیے اپنی فوج بھیجنے پر غور کر سکتا ہے۔
جاپانی وزیر خارجہ نے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران کہا کہ جنگ بندی کی صورت میں اگر سمندری بارودی سرنگیں رکاوٹ بنیں تو مائن سویپنگ کا عمل زیر غور آ سکتا ہے۔ اگرچہ جاپانی آئین کے تحت فوجی کارروائیوں کی حدود مقرر ہیں، تاہم 2015 کی سیکیورٹی قانون سازی کے تحت جاپان اپنی سیلف ڈیفنس فورسز کو بیرون ملک بھیج سکتا ہے اگر کسی قریبی سیکیورٹی پارٹنر پر حملہ جاپان کے بقا کے لیے خطرہ بن جائے۔
