لاس اینجلس کی عدالت نے ایک تاریخی فیصلے میں میٹا اور یوٹیوب کو نوجوان صارفین کے لیے نقصان دہ اور نشہ آور مصنوعات تیار کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ جیوری نے کیس کی مرکزی مدعی کے حق میں تین ملین ڈالر ہرجانے کا فیصلہ سنایا ہے۔ متاثرہ خاتون، جنہیں عدالتی دستاویزات میں کے جی ایم کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے، نے الزام عائد کیا تھا کہ چھوٹی عمر سے ہی یوٹیوب اور انسٹاگرام کے بے جا استعمال نے انہیں ذہنی امراض، ڈپریشن، باڈی ڈسمورفیا اور خودکشی کے خیالات میں مبتلا کر دیا ہے۔
کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی اس سماعت کے دوران میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ اور انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری کو بھی کٹہرے میں پیش ہونا پڑا۔ جیوری نے ایک ہفتے سے زائد غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ اس مقدمے کا موازنہ نوے کی دہائی میں تمباکو بنانے والی کمپنیوں کے خلاف ہونے والے قانونی چارہ جوئی سے کیا جا رہا ہے۔ مدعی کے وکیل مارک لینیئر نے موقف اختیار کیا کہ مذکورہ کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کے نقصانات سے بخوبی آگاہ تھیں، تاہم انہوں نے بچوں کی حفاظت کے بجائے اپنے منافع کو ترجیح دی۔
مقدمے میں ٹیکنالوجی کمپنیوں پر غفلت برتنے اور صارفین کو ممکنہ صحت کے خطرات سے خبردار نہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ کیس پلیٹ فارمز پر موجود مواد کے بجائے ان کی ڈیزائننگ کے طریقہ کار پر مرکوز تھا، جس کی وجہ سے کمپنیاں سیکشن 230 کے تحت حاصل قانونی تحفظ کا دفاع نہ کر سکیں۔
دوسری جانب، میٹا اور گوگل نے عدالتی فیصلے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ سماعت کے دوران میٹا اور یوٹیوب کے وکلاء نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مدعی کی ذہنی صحت کے مسائل کا سبب خاندانی حالات، تعلیمی مشکلات اور دیگر ذاتی عوامل تھے۔
ایک الگ پیش رفت میں نیو میکسیکو کی جیوری نے بھی ایک تاریخی فیصلے میں میٹا کو بچوں کے استحصال سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے تین سو پچھتر ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے کہا ہے کہ کمپنی اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی اور وہ نوجوانوں کے تحفظ کے لیے اپنے ریکارڈ پر قائم ہے۔ یہ مقدمات سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے ایک بڑی قانونی چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں جو مستقبل میں مزید قانونی کارروائیوں کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
