-Advertisement-

پنجاب: سیکیورٹی کریک ڈاؤن کے دوران 33 ہزار سے زائد غیر قانونی غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دیا گیا

تازہ ترین

جنگ بندی کے دعووں کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 700 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے تمام تر دعووں کے باوجود اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ ترین...
-Advertisement-

پنجاب بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کی ملک بدری کا عمل تیزی سے جاری ہے اور اب تک 33 ہزار سے زائد افراد کو ان کے آبائی ممالک بھجوایا جا چکا ہے۔ ان میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بے دخل کیے گئے افراد میں 12 ہزار 565 مرد، 6 ہزار 695 خواتین اور 13 ہزار 760 بچے شامل ہیں۔ ان افراد میں سے 10 ہزار 505 کے پاس رہائش کے کچھ کاغذات موجود تھے جبکہ 11 ہزار 100 افغان سٹیزن کارڈ کے حامل تھے۔ اس کے علاوہ 11 ہزار 416 افراد ایسے تھے جن کے پاس شناخت کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت 349 افراد مختلف ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں جنہیں مرحلہ وار واپس بھیجا جا رہا ہے۔ صوبے بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ کوئی بھی غیر قانونی طور پر مقیم فرد ملک میں نہ رہے۔

ترجمان کے مطابق یہ کارروائی عالمی قوانین کے عین مطابق ہے جس کا مقصد ریاست کی رٹ کو مضبوط بنانا اور سیکیورٹی خطرات کو کم کرنا ہے۔ پاکستان دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، تاہم اب یہ معاملہ انسانی ہمدردی سے نکل کر ایک سیکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کی رپورٹس میں سرحد پار نیٹ ورکس کا تعلق دہشت گردی، اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے جوڑا گیا ہے۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ دنیا بھر میں امریکہ اور یورپی ممالک کی طرح پاکستان بھی اپنی امیگریشن پالیسیوں کو سخت کر رہا ہے اور یہ ریاست کا حق ہے کہ وہ اپنے قوانین کا نفاذ کرے۔ اگرچہ بڑی تعداد میں خواتین اور بچوں کی بے دخلی ایک انسانی پہلو رکھتی ہے، تاہم اس فیصلے کی بنیاد جذبات کے بجائے قانونی اور سیکیورٹی تقاضے ہیں۔ اس مہم کے ذریعے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور غیر قانونی رہائش کے خاتمے تک یہ عمل جاری رہے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -