پاکستان اس وقت معاشی عدم مساوات کی ایک ایسی خطرناک لہر کی زد میں ہے جس نے معاشرے کو دو واضح طبقات میں تقسیم کر دیا ہے۔ ورلڈ ان ایکویلٹی رپورٹ 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کی سب سے امیر 10 فیصد آبادی مجموعی قومی آمدنی کے 42 فیصد حصے پر قابض ہے، جبکہ غریب ترین 50 فیصد آبادی صرف 19 فیصد آمدنی پر گزارا کرنے پر مجبور ہے۔ معاشی ماہرین اسے ایک نئی دو قومی نظریے کی اصطلاح سے تعبیر کر رہے ہیں، جہاں تفریق مذہب یا شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ دولت کی بنیاد پر قائم ہے۔
ملک میں ایک پاکستان اشرافیہ کا ہے جو بند دروازوں والی رہائشی سوسائٹیوں، بلاتعطل بجلی اور نجی سیکیورٹی کے حصار میں زندگی گزارتا ہے۔ اس طبقے کے بچے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں اور ان کا مستقبل ملک کی سرحدوں سے باہر محفوظ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرا پاکستان غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے، جہاں عام آدمی کو روزمرہ کے راشن اور سستی آٹے کی قطاروں میں کھڑے ہونے کے لیے اپنی عزت نفس کا سودا کرنا پڑتا ہے۔
یہ معاشی خلیج راتوں رات پیدا نہیں ہوئی بلکہ دہائیوں پر محیط سیاسی مصلحت پسندی، ناقص معاشی انتظام اور ایک ایسے نظام کا نتیجہ ہے جہاں اہلیت کے بجائے ذاتی تعلقات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس صورتحال نے معاشرے میں ایک ایسا توازن پیدا کر دیا ہے جہاں غربت کو پالیسی کی ناکامی ماننے کے بجائے ایک ناگزیر حقیقت کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔
تعلیمی شعبے میں نظر آنے والی تفریق اس بحران کی سب سے بڑی عکاس ہے۔ ایک طرف جدید عالمی معیار کے تعلیمی ادارے ہیں جو اشرافیہ کی نسل تیار کر رہے ہیں، اور دوسری طرف سرکاری اسکولوں کا بوسیدہ نظام ہے جو وسائل کی کمی اور تربیت یافتہ اساتذہ کے فقدان کا شکار ہے۔ اسی وجہ سے لاکھوں نوجوان ڈگریاں لینے کے باوجود بیروزگاری یا کم اجرت والی ملازمتوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں اور ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
موجودہ حالات اس سوال کو جنم دے رہے ہیں کہ کیا پاکستان ایک ملک کے اندر دو قوموں کے ساتھ مزید آگے بڑھ سکتا ہے؟ قیام پاکستان کا مقصد اجتماعی ترقی اور وقار کا حصول تھا، لیکن آج کے معاشی ڈھانچے نے لاکھوں شہریوں کو اپنے ہی وطن میں پسماندہ بنا دیا ہے۔ ملک کو ایک قوم کے طور پر متحد رکھنے کے لیے اشرافیہ کے مفادات سے بالاتر ہو کر ایسے ٹھوس اصلاحاتی اقدامات کی ضرورت ہے جو مساوی مواقع کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔
