آسٹریلوی حکومت نے ہینٹا وائرس کے مہلک پھیلاؤ سے متاثرہ ڈچ پرچم بردار پرتعیش کروز شپ پر موجود اپنے شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے خصوصی پرواز کا انتظام کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق واپسی پر ان تمام مسافروں کو لازمی قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔
عالمی ادارہ صحت کے جمعہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایم وی ہونڈیئس نامی جہاز سے اترنے والے آٹھ افراد بیمار ہوئے جن میں سے چھ میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس وبا کے نتیجے میں اب تک ایک ڈچ جوڑے اور ایک جرمن شہری سمیت تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
آسٹریلیا کے وزیر ماحولیات مرے واٹ نے کینبرا میں صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کی معاونت سے چلائی جانے والی اس پرواز کے ذریعے چار آسٹریلوی شہریوں، ایک ٹینریف کے رہائشی اور ایک نیوزی لینڈ کے شہری کو وطن واپس لایا جائے گا۔
وزیر صحت مارک بٹلر نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ وطن واپس آنے والے مسافروں کو مغربی آسٹریلیا کی ایک تنصیب میں کم از کم تین ہفتوں تک قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح اپنی کمیونٹی کو محفوظ رکھنا ہے اور ان مسافروں کی وطن واپسی کے ساتھ ساتھ وائرس کے پھیلاؤ کے کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
نیوزی لینڈ کی ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ کورینا گرے نے پیر کے روز جاری بیان میں یقین دلایا کہ ان کا ملک قرنطینہ کے تمام تر اقدامات میں تعاون کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
اس سے قبل اسپین، فرانس اور امریکہ اپنے شہریوں کو اس بحری جہاز سے نکال چکے ہیں جو اس وقت کینری جزائر میں شامل ٹینریف کے قریب لنگر انداز ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان کا ایک شہری وائرس سے متاثر پایا گیا ہے جبکہ دوسرے میں معمولی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے تمام مسافروں کے لیے 42 روزہ قرنطینہ کی سفارش کی ہے۔ ماہرین نے عوام کو پرسکون رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کووِڈ 19 کے برعکس یہ وائرس انتہائی کم متعدی ہے اور اس سے عوامی صحت کو لاحق خطرات بہت محدود ہیں۔
