-Advertisement-

برطانوی وزیراعظم کی انتخابی ناکامی کے بعد پالیسیوں میں بڑی تبدیلی کا اعلان

تازہ ترین

ایران: جنگ کے خدشات کے پیشِ نظر تاریخی مقامات کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات

تہران کے تاریخی ورثے پر جنگ کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کے باعث عالمی ثقافتی ورثہ قرار...
-Advertisement-

لندن میں برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر اپنی قیادت کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے درمیان پیر کے روز ایک اہم تقریر کے ذریعے اپنی حکومت کی سمت درست کرنے کی کوشش کریں گے۔ مقامی اور علاقائی انتخابات میں لیبر پارٹی کی عبرتناک شکست کے بعد اسٹارمر کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔

وزیراعظم کے دفتر کے مطابق، اپنی تقریر میں اسٹارمر اس حقیقت کا اعتراف کریں گے کہ عوام کی بڑھتی ہوئی ناراضگی کے پیش نظر معمولی تبدیلیاں اب کارگر ثابت نہیں ہوں گی۔ وہ معاشی ترقی، یورپی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات اور توانائی کے شعبوں میں بڑے اور ٹھوس اقدامات کا وعدہ کریں گے۔

لیبر پارٹی کے اندر اسٹارمر کے خلاف بغاوت کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ سابق جونیئر وزیر کیتھرین ویسٹ نے اعلان کیا ہے کہ اگر پیر تک کابینہ کا کوئی رکن وزیراعظم کو چیلنج نہیں کرتا، تو وہ خود قیادت کے لیے مقابلے کا عمل شروع کرنے کی کوشش کریں گی۔ پارٹی قوانین کے مطابق کسی بھی حریف کو مقابلے کے لیے 81 ارکان پارلیمنٹ یعنی پارٹی کے 20 فیصد ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

دیگر ارکان پارلیمنٹ بشمول جوش سائمنز نے اسٹارمر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ تجربہ کار رکن پارلیمنٹ کلائیو بیٹس نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اگلے چند ماہ کے اندر ایک نئے لیڈر کو لانے کا کوئی تعمیری راستہ نکالا جائے۔

ویلز میں لیبر پارٹی کو 27 سال میں پہلی بار حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے، جبکہ مقامی کونسلوں کی 1500 نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے برعکس نائجل فراج کی قیادت میں ریفارم یو کے پارٹی نے 100 سے زائد نشستوں سے بڑھ کر 1400 سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

ان انتخابات کے نتائج نے اسٹارمر کی دو سال قبل ہونے والی تاریخی کامیابی کو دھندلا دیا ہے۔ وزیراعظم پیٹر مینڈلسن کی واشنگٹن میں بطور سفیر تقرری اور برطرفی کے اسکینڈل اور معاشی ترقی میں ناکامی کے باعث بھی ان کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔

اگرچہ پارٹی کے اندر اینجیلا رینر، ویس سٹریٹنگ اور اینڈی برہم جیسے ناموں پر بحث جاری ہے، تاہم کسی ایک امیدوار پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث اسٹارمر کی پوزیشن فی الحال محفوظ دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی کے کئی ارکان 2022 کے دوران کنزرویٹو پارٹی کے اندر ہونے والی افراتفری کو دیکھتے ہوئے قیادت کی فوری تبدیلی سے گریزاں ہیں۔

وزیراعظم کیر اسٹارمر نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 2029 کے انتخابات تک قیادت برقرار رکھیں گے اور ان کا مقصد قومی تجدید کی ایک دہائی مکمل کرنا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -