-Advertisement-

ایران جنگ کے باعث التوا کے بعد، امریکی صدر ٹرمپ کا مئی میں چین کا دورہ متوقع

تازہ ترین

اپریل اور اس کے بعد کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں: اجلاس کو بریفنگ

اسلام آباد (اے پی پی) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی کے وسط میں چین کا دورہ کریں گے جہاں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے ہوگی۔ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث اس دورے کو ملتوی کیا گیا تھا تاہم اب نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ وہ 14 اور 15 مئی کو بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ رواں برس کے آخر میں چینی صدر کو واشنگٹن کے دورے کی دعوت بھی دیں گے۔

امریکی صدر کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندے ان تاریخی دوروں کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چینی صدر کے ساتھ ان کی ملاقات ایک یادگار تقریب ثابت ہوگی۔

دوسری جانب چینی سفارت خانے نے دورے کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ بیجنگ کی روایت کے مطابق صدر شی جن پنگ کے شیڈول کی تفصیلات چند روز قبل ہی جاری کی جاتی ہیں۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واشنگٹن ایشیا پیسیفک خطے میں تعلقات کو نئی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ فروری میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف لگانے کے صدارتی اختیارات محدود کیے جانے کے بعد سے دونوں ممالک کے تجارتی مذاکرات متاثر ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ ایران کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی نے بھی چین اور امریکہ کے تعلقات میں نئی پیچیدگیاں پیدا کی ہیں۔ چین ایران سے تیل درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے معاملے پر مدد کی درخواست کو بیجنگ نے تاحال نظر انداز کر رکھا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان دورے کے التوا پر بات چیت ہوئی تھی اور صدر شی جن پنگ نے جنگی صورتحال کے پیش نظر صدر ٹرمپ کی واشنگٹن میں موجودگی کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔

دو روزہ دورے کے دوران زراعت اور طیاروں کے پرزوں کی تجارت پر معاہدوں کا امکان ہے تاہم تائیوان کے معاملے پر کسی بڑی پیشرفت کی توقع نہیں ہے۔ ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت میں تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس پر بیجنگ سخت تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -