کھٹمنڈو میں ایک پروقار تقریب کے دوران ریپر سے سیاستدان بننے والے بلیندر شاہ نے نیپال کے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ پینتیس سالہ بلیندر شاہ نیپال کی تاریخ کے گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے کم عمر وزیراعظم ہیں۔ وہ پہلے مدھیسی رہنما ہیں جو بھارت اور چین کے درمیان واقع اس ہمالیائی ملک کی قیادت سنبھال رہے ہیں۔
حلف برداری کی تقریب صدارتی محل میں منعقد ہوئی جس میں سفارت کاروں اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے شرکت کی۔ بلیندر شاہ نے اپنی روایتی سیاہ ٹوپی اور مخصوص لباس میں حلف اٹھایا۔ ان کی جماعت راشٹریہ سوتنتر پارٹی نے پانچ مارچ کو ہونے والے انتخابات میں 275 رکنی پارلیمنٹ کی 182 نشستیں حاصل کر کے تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔
نئی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج سیاسی استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری ہے۔ نیپال طویل عرصے سے کمزور حکومتوں اور سست معاشی ترقی کے مسائل کا شکار رہا ہے۔ ملک کی تین کروڑ کی آبادی کا پانچواں حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور روزگار کی تلاش میں روزانہ تقریباً 1500 افراد بیرون ملک نقل مکانی کر رہے ہیں۔
ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ بلیندر شاہ کا پہلا امتحان عوامی خدمات کی شفاف اور فوری فراہمی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار پورنجن آچاریہ کے مطابق عوام حکومت سے فوری طور پر گڈ گورننس کے آثار دیکھنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کے سامنے ایک اہم ترین چیلنج گزشتہ برس ستمبر میں انسداد بدعنوانی کے احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد کی تحقیقاتی رپورٹ پر عملدرآمد کرنا ہے۔ اس احتجاج میں 76 افراد ہلاک ہوئے تھے اور متاثرین کے اہل خانہ سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
نیپال میں سیاسی عدم استحکام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1990 سے اب تک 32 حکومتیں تبدیل ہو چکی ہیں اور کوئی بھی حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل نہیں کر سکی۔ حالیہ انتخابات میں نیپالی کانگریس پارٹی 38 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی جبکہ سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کی کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کے پاس 25 نشستیں ہیں۔ پارلیمانی انتخابات تک سابق چیف جسٹس سشیلہ کارکی نے عبوری دور میں ملک کی قیادت سنبھالی تھی۔
