جنوبی لبنان میں جاری لڑائی کے دوران امریکی نژاد اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق بائیس سالہ سارجنٹ موشے یتزحک ہاکوہن کاٹز کا تعلق امریکی ریاست کنیٹی کٹ کے شہر نیو ہیون سے تھا۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے ہلاکت کے بعد ان کے عہدے میں ترقی دیتے ہوئے انہیں کارپورل سے سارجنٹ کے عہدے پر فائز کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ کاٹز اسرائیل منتقلی کے بعد فوج کی پیراٹروپرز بریگیڈ میں شامل ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والا فوجی آئی ڈی ایف کی 890 ویں بٹالین کا حصہ تھا۔ نیتن یاہو نے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمی ہونے والے دیگر فوجیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
کاٹز کے چچا زاد ربی یہوشوا ہیچٹ نے مقامی ریڈیو کو بتایا کہ ان کا بھتیجا ایک ذہین طالب علم اور مذہبی رجحان رکھنے والا نوجوان تھا جو زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہوتا تھا۔ اسرائیلی فوج نے ہلاکت کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم یہ واضح کیا کہ موت جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران واقع ہوئی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے لبنان میں انسانی بحران کے سنگین ہونے کا انتباہ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لبنان کی کل آبادی کا بیس فیصد حصہ یعنی دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے متعدد دیہات اور قصبوں کے رہائشیوں کو انخلا کا حکم دے رکھا ہے۔
اسرائیل کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق ایران کے ساتھ کشیدگی شروع ہونے کے بعد سے اب تک لبنان پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم ایک ہزار ایک سو سولہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو ہدف بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
