-Advertisement-

امریکی بحری تباہ کن جہازوں کا آبنائے ہرمز سے گزر، مائن کلیئرنگ آپریشن کا آغاز

تازہ ترین

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے مثبت نتائج کی امید ہے، خرم دستگیر

سابق وزیر خارجہ خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان نیک نیتی کے...
-Advertisement-

امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ بحری افواج کے دو تباہ کن جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزر کر اہم آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں ہٹانے کے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ جہاز آبنائے سے گزر کر بحیرہ عرب میں اپنی کارروائی کر رہے ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں انڈر واٹر ڈرونز سمیت اضافی امریکی دستے بھی اس صفائی مہم میں شامل ہو جائیں گے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ آبنائے سے بارودی سرنگیں ہٹا کر دنیا بھر کے ممالک پر احسان کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے تمام مائن لیئنگ جہازوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں موجود ہیں جہاں وہ ایران اور پاکستان کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات میں مصروف ہیں۔ انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست آمنے سامنے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل اعلیٰ سطح پر آخری رابطہ ستمبر دو ہزار تیرہ میں ہوا تھا جب سابق صدر باراک اوباما نے ایرانی صدر حسن روحانی کو ٹیلی فون کیا تھا۔

امریکی انٹیلی جنس حکام کے مطابق آبنائے میں کم از کم بارہ زیر آب بارودی سرنگیں نصب کی گئی تھیں۔ ان آلات میں مہام تھری اور مہام سیون نامی ایرانی ساختہ بارودی سرنگیں شامل ہیں جو سینسرز اور سی بیڈ پر نصب ہو کر ہدف کو نشانہ بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال بھی جہازوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے کیا گیا۔

آبنائے ہرمز سے دنیا بھر کی تیل کی کل سپلائی کا بیس فیصد حصہ گزرتا ہے۔ جنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آبنائے نہ کھولی گئی تو ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا اور ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی۔

جنگ کے چھ ہفتوں کے دوران آبنائے سے تیل بردار جہازوں اور تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت تقریباً معطل رہی۔ منگل کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد اگرچہ کچھ بحری ٹریفک بحال ہوئی ہے لیکن اس کی شرح تاحال انتہائی کم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی برقرار رہنے کے باوجود عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں تعطل کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ یوریشیا گروپ کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیننگ گلوسٹائن کے مطابق جنگ سے متاثرہ آئل ریفائنریز اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت میں وقت لگے گا جبکہ شپنگ کمپنیوں کو بھی اپنے آپریشنز مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے کم از کم دو ماہ درکار ہوں گے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -