-Advertisement-

ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر روایتی پریس کانفرنس: ایران، پوپ اور فاسٹ فوڈ پر دلچسپ تبصرے

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کو خوراک کی قلت کا سامنا، اہلکاروں کے حوصلے پست ہونے کا خدشہ

مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی بحری افواج کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کے باعث اہلکاروں...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک غیر معمولی پریس کانفرنس کے دوران فاسٹ فوڈ کی ڈیلیوری وصول کی اور ایران، پوپ اور یسوع مسیح جیسے حساس موضوعات پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ نوے سالہ صدر نے ڈور ڈیش کی ملازم شیرون سمنز سے برگرز کے دو تھیلے وصول کیے۔ آرکنساس سے تعلق رکھنے والی دس بچوں کی دادی شیرون سمنز نے صدر کو آرڈر پہنچایا۔ اس تقریب کا مقصد ٹرمپ کی جانب سے ٹپس پر ٹیکس ختم کرنے کی پالیسی کو اجاگر کرنا تھا، جس کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اس سے سمنز کو گیارہ ہزار ڈالر کا ریبیٹ ملا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران صورتحال اس وقت دلچسپ رخ اختیار کر گئی جب ایک صحافی نے ٹرمپ سے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی اس تصویر کے بارے میں سوال کیا جس میں انہیں یسوع مسیح کے روپ میں دکھایا گیا تھا۔ ٹرمپ نے جواب دیا کہ انہوں نے یہ تصویر پوسٹ کی تھی اور ان کا خیال تھا کہ یہ ان کی بطور ڈاکٹر ایک تصویر ہے جس کا تعلق ریڈ کراس سے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگوں کو بہتر بناتے ہیں۔

ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تہران ایک معاہدہ کرنے کا شدید خواہشمند ہے، جس کی بنیادی شرط ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران کے معاملے پر پوپ لیو چہار دہم سے معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ ان کے نزدیک پوپ کی ایران مخالف پالیسی غلط ہے۔ ٹرمپ نے پوپ کو جرائم اور دیگر معاملات پر کمزور قرار دیا۔

پریس کانفرنس کے آخری لمحات میں جب صحافیوں نے ڈیلیوری ورکر شیرون سمنز سے پوچھا کہ کیا وائٹ ہاؤس میں ٹپ دینے کا رواج اچھا ہے، تو ٹرمپ نے فوراً اپنی جیب سے سو ڈالر کا نوٹ نکالا اور سمنز کو تھما دیا۔ اس سے قبل جب ٹرمپ نے سمنز سے کھیلوں میں ٹرانس جینڈر افراد کی شرکت پر رائے مانگی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ یہاں صرف ٹپس پر ٹیکس کی پالیسی کے حوالے سے آئی ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -