انڈمان کے سمندر میں روہنگیا مہاجرین اور بنگلہ دیشی شہریوں سے بھری کشتی الٹنے کے نتیجے میں ڈھائی سو افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ٹرالر چار اپریل کو بنگلہ دیش کے علاقے ٹیکناف سے ملائیشیا کے لیے روانہ ہوا تھا۔ کشتی میں گنجائش سے زائد افراد کی موجودگی، تیز ہواؤں اور سمندر میں شدید طغیانی کو حادثے کی ممکنہ وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس کشتی میں کل دو سو اسی افراد سوار تھے۔ بنگلہ دیش کوسٹ گارڈ نے نو اپریل کو انڈمان جزائر کے قریب سے نو افراد کو بحفاظت نکال لیا۔ ریسکیو کیے جانے والے افراد میں ایک خاتون بھی شامل ہے جنہیں ایک تجارتی جہاز کی مدد سے سمندر سے نکالا گیا۔
حادثے میں بچ جانے والے چالیس سالہ رفیق الاسلام نے بتایا کہ انسانی سمگلروں نے انہیں ملائیشیا میں ملازمت کا جھانسہ دے کر کشتی پر سوار کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کشتی چار دن تک سفر کرتی رہی جس کے دوران کئی افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ وہ خود کشتی سے بہنے والے تیل کے باعث جھلس گئے تھے۔
یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ روہنگیا مہاجرین کی طویل بے دخلی اور بحران کے پائیدار حل نہ ہونے کے سنگین نتائج کا غماز ہے۔ تنظیم نے میانمار میں نقل مکانی کی بنیادی وجوہات کے تدارک پر زور دیا ہے تاکہ روہنگیا مہاجرین باعزت اور محفوظ طریقے سے اپنے وطن واپس جا سکیں۔
میانمار میں جاری خانہ جنگی اور ریاستی جبر کے باعث ہر سال ہزاروں روہنگیا مسلمان اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر سمندری راستوں سے نقل مکانی کرتے ہیں۔ زیادہ تر مہاجرین بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں قائم کیمپوں سے فرار ہو کر ملائیشیا جیسے ممالک کا رخ کرتے ہیں، جہاں وہ انسانی سمگلروں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس مئی میں بھی میانمار کے ساحل پر کشتیوں کے دو مختلف حادثات میں چار سو ستائیس روہنگیا مہاجرین کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
