امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک وسیع تر معاہدے کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ جارجیا میں ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی محدود سمجھوتے کے بجائے ایک عظیم تصفیے کے خواہاں ہیں۔
نائب صدر نے کہا کہ صدر ٹرمپ چھوٹے معاہدوں میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ وہ ایک جامع تصفیہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے تہران کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ ایک نارمل ملک کی طرح رویہ اختیار کرنے پر آمادہ ہو تو امریکا اس کے ساتھ معاشی تعلقات معمول پر لانے کے لیے تیار ہے۔
وینس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا امریکی پالیسی کا بنیادی ہدف ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے مابین گہما گہمی اور بداعتمادی کی فضا بہت گہری ہے جسے راتوں رات ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی مذاکرات کار معاہدے کے خواہشمند ہیں اور وہ موجودہ پیش رفت سے مطمئن ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں پر محیط نازک جنگ بندی کا ایک ہفتہ باقی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ویک اینڈ پر پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں بھی حصہ لیا تھا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی تاحال برقرار ہے۔
اپنے خطاب میں نائب صدر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی کو خاص طور پر نوجوان ووٹرز کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اختلافات کے باوجود سیاسی عمل میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔
