-Advertisement-

برطانوی معیشت میں بہتری، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور توانائی بحران سے نمٹنے کا چیلنج برقرار

تازہ ترین

پوپ لیو کا کیمرون میں عالمی رہنماؤں پر تنقید، دنیا کو ظالموں کے قبضے میں قرار دے دیا

پوپ لیو نے کیمرون کے دورے کے دوران عالمی رہنماؤں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا...
-Advertisement-

برطانیہ کی معیشت نے فروری کے مہینے میں غیر متوقع طور پر ترقی کی رفتار پکڑی ہے جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ایران اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی شروع ہونے سے قبل ملکی معاشی حالات ماہرین کے اندازوں سے کہیں بہتر تھے۔ قومی ادارہ شماریات کے مطابق فروری میں مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں صفر اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو جنوری کے بعد سب سے بڑی شرح نمو ہے۔ رائٹرز کے سروے میں ماہرین معیشت نے اس اضافے کے صرف صفر اعشاریہ دو فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔

برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز کے لیے یہ اعداد و شمار حوصلہ افزا ہو سکتے ہیں تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ اب بھی مشرق وسطیٰ کے تنازع کے اثرات سے بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ توانائی کی درآمدات پر انحصار اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی نسبت بلند افراط زر کا خطرہ ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ کے ایسوسی ایٹ اکانومسٹ فرگس جیمینیز انگلینڈ کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں حالیہ جھٹکے نے اس معاشی رفتار کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے وقت میں افراط زر ہدف سے زیادہ رہے گی اور لیبر مارکیٹ میں بھی نرمی دیکھی جا سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی منگل کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں ایران جنگ کے پیش نظر برطانیہ کی معاشی ترقی کے تخمینوں میں نمایاں کمی کی ہے۔

قومی ادارہ شماریات کے چیف اکانومسٹ گرانٹ فٹزنر نے بتایا کہ فروری تک سہ ماہی کے دوران خدمات کے شعبے میں وسیع پیمانے پر اضافے نے معاشی نمو کو سہارا دیا ہے۔ اس دوران کاروں کی پیداوار میں بھی بہتری دیکھی گئی جو گزشتہ موسم خزاں میں سائبر حملے کے باعث متاثر ہوئی تھی۔

اعداد و شمار میں اس نمایاں بہتری کے بعد بعض ماہرین کی جانب سے قومی ادارہ شماریات کے موسمی ایڈجسٹمنٹ کے عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے دوران پیداوار میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں کے بعد سے یہ عمل درست انداز میں کام نہیں کر رہا۔ تاہم ترجمان ادارہ شماریات نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اعداد و شمار اور ایڈجسٹمنٹ کے عمل پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔

آئی این جی کے ماہر معاشیات جیمز اسمتھ نے کہا کہ انہیں اب بھی شبہ ہے کہ ادارہ شماریات نے بلند افراط زر اور قیمتوں میں اضافے کے وقت کے اثرات کو مکمل طور پر مدنظر نہیں رکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بحرانی صورتحال کے پیش نظر یہ اعداد و شمار اب پرانی خبر معلوم ہوتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -