امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بہت قریب ہے اور رواں ہفتے کے آخر تک نئے مذاکرات کا امکان ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اشارہ دیا کہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں وہ اسلام آباد کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چھ ہفتوں سے جاری تنازع کے خاتمے اور تہران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے کے حوالے سے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر واپس کرنے پر رضامند ہو گیا ہے اور اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔
امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ طے نہ پایا تو کشیدگی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے اور لڑائی کا آغاز ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتیں کمزور پڑی ہیں، جس کے باعث تہران اب ان شرائط پر بات کرنے کے لیے تیار ہے جنہیں پہلے مسترد کر دیا گیا تھا۔
پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستان نے بہت مضبوط کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی کوششوں کو شاندار قرار دیا۔
عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے جس میں حزب اللہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کریں گے۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے اور جلد ہی خطے میں کوئی اہم پیش رفت متوقع ہے۔
