سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو طبیعت ناساز ہونے پر گزشتہ شب ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
بیرسٹر گوہر خان کے مطابق انہیں گزشتہ شب ایک پیغام کے ذریعے آگاہ کیا گیا کہ بشریٰ بی بی کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور انہیں ان کے علاج کے حوالے سے جلد بریفنگ دی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بشریٰ بی بی کے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور ساتھ ہی عمران خان کے اہل خانہ کو بھی ان سے ملنے دیا جائے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ عمران خان کو بھی علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ ان کا قانونی اور بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کی صحت کی بگڑتی صورتحال پر ہر پاکستانی کو گہری تشویش لاحق ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ انہیں 20 دسمبر 2025 کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس میں ان پر سعودی ولی عہد کے تحفے میں دیے گئے بلگری جیولری سیٹ کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مارچ میں بشریٰ بی بی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ کیا گیا تھا، جس میں انہیں دائیں آنکھ میں تکلیف اور دھندلا پن جیسی شکایات تھیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ڈاکٹر محمد عارف خان کی جانب سے کیے گئے معائنے میں ان کی آنکھ میں پوسٹریئر وٹریئس ڈیٹیچمنٹ (پی وی ڈی) کی تشخیص ہوئی تھی، جس کے بعد انہیں ادویات اور عینک استعمال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
دوسری جانب عمران خان کی صحت اور بینائی کے حوالے سے بھی ماضی میں تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ سابق وزیراعظم کی بینائی میں کمی کے حوالے سے سپریم کورٹ میں بھی معاملہ اٹھایا گیا تھا، جس میں ان کے وکیل سلمان صفدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے۔ تاہم بعد ازاں مارچ میں پمز کی جانب سے جاری کردہ طبی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خصوصی انجیکشنز کے بعد عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
