اسلام آباد میں سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے اہم کمانڈر عامر سہیل عرف مولوی حیدر کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب وہ طبی امداد کے حصول کے لیے پشاور جا رہا تھا۔
دورانِ تفتیش عامر سہیل نے ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔ ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر فتنہ الخوارج میں شمولیت اختیار کی اور افغانستان کے صوبے پکتیکا میں واقع دہشت گردوں کے مرکز میں عسکری تربیت حاصل کی۔
عامر سہیل نے اعتراف کیا کہ افغانستان میں فتنہ الخوارج کے مراکز کو افغان طالبان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس نے مزید انکشاف کیا کہ افغانستان میں موجود یہ دہشت گرد گروہ داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کے ساتھ گہرے روابط رکھتے ہیں۔
ملزم کے مطابق اس کی زیر کمان بیس سے زائد دہشت گردوں پر مشتمل یونٹ کام کر رہا تھا جس میں افغان باشندے بھی شامل تھے۔ عامر سہیل نے دعویٰ کیا کہ انہیں فنڈنگ افغانستان کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسی را سمیت دیگر بیرونی ذرائع سے فراہم کی جاتی تھی۔
گرفتار دہشت گرد نے بنوں، لکی مروت اور میانوالی سمیت دیگر علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ اس نے واضح کیا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ گروہ محض پیسے کے عوض دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دیتا ہے۔
