وزیر اعظم شہباز شریف نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر عالمی رہنماؤں کے ساتھ اہم ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ دورہ ترکی کے دوران وزیر اعظم نے علاقائی استحکام، دوطرفہ تعلقات اور بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے عرب و افریقی امور مسعد بولوس سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پاکستان کے امن کوششوں میں کردار اور حالیہ جنگ بندی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم نے لبنان میں جنگ بندی کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہا اور گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے میں امریکی کردار کو یاد کیا۔
ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات کو معاشی اور تجارتی سطح پر مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ مسعد بولوس نے ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام پہنچایا اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔ امریکی جانب سے انسداد دہشت گردی اور معاشی ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا اعادہ بھی کیا گیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور شام کے صدر احمد الشرع سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی اور کوسوو کی سابق صدر وجوسا عثمانی سے بھی بات چیت کی۔
انطالیہ پہنچنے پر ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ شہباز شریف نے ترکی کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ فورم کے دوران عالمی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے منتظر ہیں۔
وزیر اعظم کے ہمراہ وفد میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی سید طارق فاطمی بھی موجود تھے۔ حکام کے مطابق انطالیہ فورم میں وزیر اعظم شہباز شریف کی مصروفیات عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔
