بیجنگ نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی تجارت کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ کو ہر صورت کھلا رکھا جانا چاہیے۔
چینی صدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی معمول کی نقل و حمل کا تسلسل نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ پوری بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے سیاسی اور سفارتی حل کا حامی ہے اور خطے میں فوری اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔
چین کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز کو قبضے میں لینے کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے معاہدے پر شدید دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔ ایران نے بھی فی الحال نئے امن مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے امریکی اقدام کو زبردستی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے متعلقہ فریقین سے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرنے کی اپیل کی ہے۔ فروری میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنے جہازوں کے علاوہ دیگر تمام جہازوں کے لیے عملی طور پر بند کر رکھا ہے جبکہ امریکہ نے گزشتہ ہفتے سے ایرانی جہازوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
یاد رہے کہ چین ایران سے خام تیل خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ چینی صدر نے سعودی ولی عہد سے گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ چین مشرق وسطیٰ کے ممالک کی جانب سے اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
