امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کل اسلام آباد میں متوقع ہے تاہم ایرانی حکام کی جانب سے شرکت پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وانس آج پاکستان کے لیے روانہ ہو رہے ہیں جبکہ ایرانی وفد کی آمد بھی متوقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کسی معاہدے تک برقرار رہے گی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کسی دباؤ میں نہیں آئے گا اور صرف بہترین شرائط پر ہی سمجھوتہ کیا جائے گا۔ انہوں نے سابق صدور براک اوباما اور جو بائیڈن کے معاہدوں کو امریکی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ کسی ایسے معاہدے کے حق میں نہیں جو امریکہ کو نقصان پہنچائے۔ امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ ناگزیر ہو جائے گی، تاہم وہ کسی برے معاہدے میں جلد بازی نہیں کریں گے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان کا کردار مثبت ہے لیکن تہران کو امریکہ پر اعتماد نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال دوسرے دور کے مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ایرانی وفد پاکستان نہیں جائے گا۔
ادھر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں دونوں اطراف نے قیام امن کے لیے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اشتعال انگیز اقدامات، جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، تجارتی جہازوں کے خلاف دھمکیاں اور متضاد بیانات سفارت کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
