پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز ایک بار پھر تیزی کا رجحان لوٹ آیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کے دوسرے دور کی توقعات ہیں۔ سفارتی پیش رفت کی امیدوں نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی پیدا کی ہے، جس سے توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوئے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
دوپہر بارہ بج کر چوبیس منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2434.55 پوائنٹس یا 1.41 فیصد اضافے کے ساتھ 174,631.25 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ کاروباری سیشن کے دوران انڈیکس 175,298.11 کی بلند ترین سطح تک پہنچا، جبکہ کم ترین سطح 173,405.57 ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران 22 کروڑ 72 لاکھ سے زائد شیئرز کا کاروبار ہوا جس کی مالیت 17 ارب 55 کروڑ روپے سے زائد رہی۔
مارکیٹ میں تیزی کا رجحان وسیع بنیادوں پر دیکھا گیا، جس میں آٹوموبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکنگ، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ، پاور جنریشن اور ریفائنری کے شعبوں میں بھرپور خریداری دیکھی گئی۔
اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ محمد اویس اشرف کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کی نظریں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے نتائج پر مرکوز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی سفارتی پوزیشن اور بیرونی فنڈنگ کی مستحکم صورتحال، جس میں سعودی عرب سے تین ارب ڈالر کی وصولی اور 75 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈز کا اجرا شامل ہے، مارکیٹ کی بحالی میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
اویس اشرف کے مطابق مارچ 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ایک ارب ڈالر رہا۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ اپریل 2026 میں افراطِ زر کی شرح 9.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، جس کی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود غذائی اجناس کی قیمتوں میں اعتدال ہے، جس کا مطلب ہے کہ حقیقی شرح سود اب بھی مثبت سطح پر ہے۔
