-Advertisement-

ایل سلواڈور: ایم ایس-13 گینگ کے تقریباً 500 ارکان کے خلاف اجتماعی قتل کا مقدمہ شروع

تازہ ترین

بحیرہ بالٹک پر روسی طیاروں کی پرواز، نیٹو کے لڑاکا طیارے فضا میں بلند

نیٹو نے پیر کے روز بحیرہ بالٹک کے اوپر پرواز کرنے والے روسی اسٹریٹجک بمبار طیاروں اور جنگی طیاروں...
-Advertisement-

سلواڈور میں بدنام زمانہ گینگ مارا سالواٹروچا کے تقریباً 490 مبینہ ارکان کے خلاف اجتماعی مقدمے کی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان افراد پر ہزاروں قتل سمیت سینکڑوں سنگین جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق، مقدمے کا سامنا کرنے والے 486 ملزمان پر 2012 سے 2022 کے دوران 47 ہزار جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے، جن میں 29 ہزار افراد کا قتل بھی شامل ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں گینگ کی قومی قیادت، مقامی لیڈران، پروگرام کوآرڈینیٹرز اور بانی ارکان شامل ہیں۔

سلواڈور کے صدر نایب بوقیلی کی جانب سے گینگز کے خلاف شروع کی گئی آہنی مہم کے تحت یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ ریاست کے اندر ایک متوازی ریاست قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جس پر ان پر بغاوت کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

استغاثہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے پاس ملزمان کو زیادہ سے زیادہ سزا دلوانے کے لیے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ سماعت کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ مسلح گروہوں نے دہائیوں تک ملکی امن اور ریاستی سلامتی کو داؤ پر لگایا، اب قانون ان کے خلاف پوری طاقت سے حرکت میں آئے گا۔

صدر بوقیلی نے مارچ 2022 میں 87 افراد کے قتل کے بعد گینگز کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔ اس ہنگامی صورتحال کے دوران اب تک 91 ہزار سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس مہم کے نتیجے میں ملک میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ اور کرسٹوسال جیسی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اجتماعی مقدمات، خفیہ ججوں کے فیصلوں اور ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والی کارروائی میں بے گناہ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے حراستی مراکز میں تشدد اور 500 سے زائد اموات کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مارا سالواٹروچا اور حریف گینگ باریو 18 کی جڑیں لاس اینجلس کی سڑکوں سے جڑی ہیں، جہاں سے یہ گروہ وسطی امریکہ میں منشیات کی سمگلنگ اور بھتہ خوری کے نیٹ ورک چلاتے ہیں۔ صدر بوقیلی کا دعویٰ ہے کہ ان گروہوں نے تین دہائیوں کے دوران ملک میں 2 لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -