-Advertisement-

ایران کے ساتھ ‘بہترین معاہدے’ کی امید، ٹرمپ کا جنگ بندی میں توسیع سے انکار

تازہ ترین

ٹرمپ کی برطانوی وزیراعظم کی حمایت، پیٹر مینڈلسن تنازع سے نکلنے کی پیشگوئی

لندن میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر ایک بار پھر شدید سیاسی بحران کی زد میں آ گئے ہیں۔ یہ...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں قوی امید ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک بہترین معاہدہ طے پا جائے گا۔ سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ بدھ کے روز ختم ہونے والی جنگ بندی میں توسیع کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک بڑے معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں کیونکہ ایران کے پاس اب کوئی اور راستہ نہیں بچا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت امریکہ انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے اور تہران کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور قیادت کو غیر مؤثر کر دیا ہے اور یہ صورتحال عملی طور پر حکومت کی تبدیلی کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسے جو بھی نام دیا جائے یہ حکومت کی تبدیلی ہی ہے اور گزشتہ امریکی انتظامیہ کو یہ اقدام سینتالیس برس قبل ہی کر لینا چاہیے تھا۔

ٹرمپ نے تنبیہ کی کہ جب تک حتمی معاہدہ طے نہیں پاتا، ایران پر عائد ناکہ بندی اور دباؤ برقرار رہے گا۔ انہوں نے جنگ بندی میں توسیع کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے۔ ساتھ ہی انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ایک حتمی معاہدہ ایران کو دوبارہ ایک مضبوط ملک بننے میں مدد دے سکتا ہے۔

اس دوران صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکی افواج نے چین کی جانب سے ایران بھیجا جانے والا ایک جہاز روکا ہے جس میں مبینہ طور پر عسکری سازوسامان موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ چین کی طرف سے ایک تحفہ تھا جو مناسب نہیں تھا اور انہیں اس پر حیرت ہوئی کیونکہ چینی صدر شی جن پنگ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ بیجنگ ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان جنگ بندی کی نازک صورتحال اور سفارتی کوششوں کے غیر یقینی مستقبل کی عکاسی کرتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -