-Advertisement-

بیجنگ کار شو: چینی کمپنیوں کا یورپی لگژری برانڈز کو ٹکر دینے کا اعلان

تازہ ترین

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا علاقائی صورتحال پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کے درمیان ٹیلی...
-Advertisement-

چین کی بڑی آٹوموبائل کمپنیاں اب عالمی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس مہنگی اور لگژری گاڑیاں متعارف کروا رہی ہیں۔ جیلی اور نیو جیسی معروف کمپنیاں اب ایسی پریمیم گاڑیاں مارکیٹ میں لا رہی ہیں جو جرمن برانڈز کے مقابلے میں نہ صرف جدید فیچرز سے مالا مال ہیں بلکہ قیمت میں بھی کافی کم ہیں۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران چین میں الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں جاری جنگ اب معیار اور ویلیو فار منی کی جنگ میں بدل چکی ہے۔ جاٹو ڈائنامکس کی عہدیدار بو یو کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیاں اب پورشے، مرسڈیز اور بی ایم ڈبلیو جیسے جرمن برانڈز کے صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

بیجنگ آٹو شو میں اس بار 181 نئے ماڈلز اور 71 کانسیپٹ کاریں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ چائنا پیسنجر کار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل سوئی ڈونگ شو کے مطابق ان میں بڑی اور پریمیم نائن سیریز کی ایس یو ویز کی بھرمار ہوگی۔

جرمن کمپنیوں کے لیے چین کی مارکیٹ میں مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ ایس اینڈ پی گلوبل موبلٹی کے ڈیٹا کے مطابق چین میں جرمن کاروں کی فروخت 2019 کے 5.1 ملین سے کم ہو کر 3.85 ملین رہ گئی ہے جو کہ 25 فیصد کی نمایاں کمی ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں مرسڈیز، بی ایم ڈبلیو، پورشے اور آڈی سب کی فروخت میں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

جیلی کے پریمیم برانڈ زیکر نے حال ہی میں 8 ایکس متعارف کرائی ہے جو کہ ایک جدید پلگ ان ہائبرڈ ایس یو وی ہے۔ اس گاڑی کی قیمت 53 ہزار ڈالر سے کم ہے اور یہ ٹیکنالوجی اور سیفٹی فیچرز میں پورشے کائین اور بی ایم ڈبلیو 5 ایم جیسے مہنگے ترین ماڈلز کو پیچھے چھوڑ رہی ہے۔ جیلی کے سی ای او گان جیا یوئے نے اسے سڑکوں کا نیا بادشاہ قرار دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں کی جانب سے بڑی ایس یو ویز کا تعارف امریکی کمپنیوں جنرل موٹرز، فورڈ اور سٹیلینٹس کے منافع بخش کاروبار کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔ سائنو آٹو انسائٹس کے مینیجنگ ڈائریکٹر ٹو لی کے مطابق ڈیٹرائٹ کی کمپنیاں اب محفوظ نہیں رہیں۔

چین میں صارفین کی ترجیحات بھی بدل رہی ہیں۔ اب خریداروں کی اوسط عمر 40 برس سے تجاوز کر چکی ہے اور خاندان بڑی اور لگژری گاڑیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جیٹو ڈائنامکس کی بو یو کا کہنا ہے کہ جرمن برانڈز ماضی میں قید ہیں جبکہ چینی صارفین مستقبل کی ٹیکنالوجی کو اپنانا چاہتے ہیں۔

اگرچہ یورپی مارکیٹ میں جرمن برانڈز اب بھی معیار کی علامت سمجھے جاتے ہیں، تاہم آٹو کنسلٹنٹ فلیپ منوز کے مطابق چین میں غیر ملکی لگژری برانڈز کے لیے بقا کی جنگ مشکل ہوتی جا رہی ہے اور اب یہ مقابلہ عالمی سطح پر بھی شدت اختیار کرے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -